تقاضا
Urdu book, p. 122
By Maulana Wahiduddin Khan
اٹھارویں اور انیسویں صدی کے اس مزدور طبقہ کی چیخ ہے، جس کو مشینی نظام نے اپنے ابتدائی دور میں جنم دیا تھا، اس کے بعد رد عمل شروع ہوا اور مزدور تحریکوں کی ایک صدی کی کوشش سے اب حالات بہت بدل چکے ہیں مگر یہ تبدیلی صرف ظاہر کی تبدیلی ہے، بیشک آج کا مزدور پہلے کے مزدور کے مقابلے میں زیادہ اجرت پاتا ہے، لیکن جہاں تک حقیقی خوشی کی دولت کا تعلق ہے، اس معاملے میں وہ اپنے پیش رووں سے بھی زیادہ محروم ہے— سائنس اور ٹیکنالوجی نے جو نظام بنایا ہے، وہ کچھ مادی ظواہر انسان کو شاید دے، مگر خوشی اور اطمینانِ قلب کی دولت پھر بھی اسے نہیں دیتا، تہذیبِ جدید کے انسان کے بارے میں ولیم بلیک (1857-1827 William Blake) کے الفاظ نہایت صحیح ہیں: And mark in every face I meet Marks of weakness, marks of woe.(!) برٹرینڈ رسل نے اعتراف کیا ہے کہ ’’ہماری دنیا کے جانور خوش ہیں، انسانوں کو بھی خوش ہونا چاہیے، مگر جدید دنیا میں انھیں یہ نعمت حاصل نہیں۔‘‘ Conquest of Happiness, p. 11 بلکہ رسل کے الفاظ میں اب تو صورت حال یہ ہے کہ لوگ کہنے لگے ہیں کہ اس کا حصول ممکن ہی نہیں: Happiness in the modern world has become an impossibility p. 93 نیو یارک جانے والا سیاح ایک طرف تو اسٹیٹ بلڈنگ جیسی عمارتوں کو دیکھتا ہے جس کی 102 منزلیں ہیں، اور جو اتنی اونچی ہے کہ اس کا اوپر کا ٹمپیریچر نیچے کے مقابلے میں کافی سرد ہو جاتا ہے، اس کو دیکھ کر اتریں تو یہ مشکل ہی سے یقین آئے گا کہ آپ اس پر گئے تھے، 1250 فٹ بلند عمارت پر چڑھنے میں لفٹ کے ذریعہ صرف تین منٹ لگتے ہیں، ان (!) https://tinyurl.com/ycx7bnyj (accessed on 10.04.21)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader