Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تقاضا

Urdu book, p. 123

By Maulana Wahiduddin Khan

عالی شان عمارتوں اور بازاروں کو دیکھ کر وہ کلب میں جاتا ہے، وہاں وہ دیکھتا ہے کہ عورت مرد مل مل کر ناچ رہے ہیں۔” کتنے خوش نصیب ہیں یہ لوگ‘‘ وہ سوچتا ہے، مگر زیادہ دیر گزرنے نہیں پاتی کہ اس جھنڈ میں سے ایک نوجوان عورت آکر اس کے پاس کی نشست پر بیٹھ جاتی ہے، وہ بہت افسردہ ہے۔ ’’سیاح! کیا میں بہت بدصورت ہوں‘‘ عورت کہتی ہے۔ ’’میرا خیال تو ایسا نہیں ہے۔‘‘ ’’مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجھ میں رعنائی (Glamour) نہیں ہے۔‘‘ ’’میرے خیال میں تو تم میں گلے مر ہے۔‘‘ ’’شکریہ۔ لیکن اب نہ مجھے نوجوان ٹیپ (Tap) کرتے ہیں، اور نہ ڈیٹ (Date) مانگتے ہیں، مجھے زندگی ویران نظر آنے لگی ہے۔‘‘ یہ جدید دور کے انسان کی ایک ہلکی سی جھلک ہے، حقیقت یہ ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے صرف مکانوں کو ترقی دی ہے، اس نے مکینوں کے دل کا سکون چھین لیا ہے، ا س نے شاندار مشینیں کھڑی کی ہیں، مگر ان مشینوں میں کام کرنے والے انسانوں کو چین سے محروم کر دیا ہے، یہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی 4 سوسالہ تاریخ کا آخری انجام ہے، پھر کس بنیاد پر یقین کر لیا جائے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی وہ سکون اور مسرت کی دنیا بنانے میں کامیاب ہوگی جس کی انسان کو تلاش ہے۔ 2۔ اب اخلاقی تقاضے کو لیجیے، اس حیثیت سے جب ہم دیکھتے ہیں تو دنیا کے حالات شدید طور پر اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ اس کی ایک آخرت ہو، اس کے بغیر ساری تاریخ بالکل بے معنی ہوتی ہے۔ یہ ہمارا ایک فطری احساس ہے کہ ہم خیر اور شر ظلم اور انصاف میں تمیز کرتے ہیں، انسان کے سوا کسی بھی مخلوق کے اندر یہ خصوصیت نہیں پائی جاتی، مگر انسان ہی کی دنیا وہ دنیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page