تقاضا
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے، جہاں اس احساس کو سب سے زیادہ پامال کیا جا رہا ہے، انسان اپنے ابنائِ نوع پر ظلم کرتا ہے، وہ اپنی نوع کو استحصال کرتا ہے، اس کو قتل کرتا ہے، اور طرح طرح سے اس کو تکلیف پہنچاتا ہے۔ حالانکہ جانوروں تک کا یہ حال ہے کہ وہ اپنی نوع کے ساتھ سفاکی نہیں کرتے، بھیڑیے اور شیر اپنی نوع کے لیے بھیڑیے اور شیر نہیں ہیں، مگر انسان خود انسان کے لیے بھیڑیا بنا ہوا ہے، بیشک انسانی تاریخ میں حق شناسی کی چنگاریاں بھی ملتی ہیں، اور وہ بہت قابل قدر ہیں، مگر اس کا بڑا حصہ حق تلفی کی روداد سے بھرا ہوا ہے۔ مورخ کو بڑی مایوسی ہوتی ہے، جب وہ دیکھتا ہے کہ انسان کا ضمیر جو کچھ چاہتا ہے، انسانی دنیا کے واقعی حالات اس کے خلاف ہیں۔ یہاں میں چند اقوال نقل کروں گا: والٹیر: ’’انسانی تاریخ محض جرائم اور مصائب کی ایک تصویر ہے۔‘‘ History is nothing more than a picture of crimes and misfortunes. (The Story of Philosophy by Will Durant, NY, 1926, p. 241) ہربرٹ اسپنسر: ’’تاریخ محض بے فائدہ گپ ہے۔‘‘ History is simply useless gossip. نپولین: ’’تاریخ تمام کی تمام لایعنی قصے کا نام ہے۔‘‘ History on the whole is another name for a meaningless story. ایڈورڈ گبن: ’’انسانیت کی تاریخ جرائم، حماقت اور بدقسمتی کے رجسٹر سے کچھ ہی زیادہ ہے۔‘‘ History, which is, indeed, little more than the register of the crimes, follies and misfortunes of mankind. ہیگل: ’’پبلک اور حکومت نے تاریخ کے مطالعہ سے جو واحد چیز سیکھی ہے، وہ صرف یہ کہ انھوں نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔‘‘

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader