Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تقاضا

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

کیا انسانیت کا یہ عظیم الشان ڈراما اسی لیے کھیلا گیا تھا کہ وہ اس طرح کی ایک ہولناک کہانی وجود میں لا کر ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے، ہماری فطرت جواب دیتی ہے کہ نہیں، انسان کے اندر عدل و انصاف کا احساس تقاضا کرتا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا، اور نہ ایسا ہونا چاہیے، ایک دن ایسا آنا ضروری ہے، جب حق اور ناحق الگ ہو، ظالم کو اس کے ظلم کا اور مظلوم کو اس کی مظلومیت کا بدلہ ملے۔ یہ ایک ایسی طلب ہے، جس کو اسی طرح تاریخ سے الگ نہیں کیا جا سکتا جس طرح اسے انسان سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ فطرت اور واقعہ کا یہ تضاد بتاتا ہے کہ اس خلا کو لازماً پر ہونا چاہیے— جو کچھ ہو رہا ہے، اور جو کچھ ہونا چاہیے، دونوں کا فرق ثابت کرتا ہے کہ ابھی زندگی کے ظہور کا کوئی اور سٹیج باقی ہے، یہ خلا پکار رہا ہے کہ ایک وقت ایسا نہیں ہونا چاہیے جب دنیا کی تکمیل ہو، مجھے حیرت ہے کہ لوگ ہارڈِی کی فلسفہ پر ایمان لا کر دنیا کو ظلم اور بے رحمی کی جگہ سمجھنے لگتے ہیں، مگر یہی ظالمانہ صورتِ حال انھیں اس یقین کی طرف نہیں لے جاتی کہ جو کچھ آج موجود نہیں ہے، مگر عقل جس کا تقاضا کرتی ہے، اسے کل وقوع میں آنا چاہیے۔ "قیامت نہ ہو تو ان ظالموں کا سر کون توڑے" — یہ فقرہ اکثر ایک درد ناک آہ کے ساتھ اس وقت میری زبان سے نکل جاتا ہے، جب میں اخبار پڑھتا ہوں، اخبار گو یا دنیا کے روزانہ حالات کی ایک تصویر ہے، مگر اخبار ہمیں دنیا کے حالات کے بارے میں کیا بتاتے ہیں، وہ اغوا اور قتل کی خبریں دیتے ہیں، چوری اور الزام تراشی کی داستانیں سناتے ہیں، سیاسی تجارت اور تاجرانہ سیاست کے جھوٹے پروپیگنڈے ہمارے دماغوں میں بھرتے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ فلاں حکمراں نے اپنے ماتحت کمزوروں کو دبالیا، فلاں قوم نے قومی مفاد کے لیے فلاں علاقے پر قبضہ کرلیا، غرض اخبار، درویش اور سلطان کی عیاریوں کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page