تقاضا
Urdu book, p. 126
By Maulana Wahiduddin Khan
داستان کے سوا اور کچھ نہیں ، اور ماضی قریب میں ہندوستان میں ہونے والے حادثات خاص طور پر جبل پور ، کلکتہ ، جمشید پور اور راؤڑ کیلا کی قتل و غارت گری کے بعد تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں کسی بھی قابل قیاس یا ناقابل قیاس بدترین برائی کو نا ممکن نہیں سمجھنا چاہیے ، ایک قوم سیکولر ازم ، جمہوریت اور اہنسا کی علمبردار بن کر وحشیانہ فرقہ واریت سفاکانہ آمرین اور بدترین تشدد کا ارتکاب کر سکتی ، ایک لیڈر جس کو محسن انسانیت اور پیغمبر امن و اماں کا خطاب دیا گیا ہو عین اس کے اقتدار میں انسانیت کے اوپر ایسے شرمناک مظالم کیے جاسکتے ہیں ، جن سے چیتے اور بھیڑیے اور جنگلی سور بھی پناہ مانگیں ، حتیٰ کہ نشر و اشاعت کے اس دور میں یہ بھی ممکن ہے کہ دنیا کے ایک بہت بڑے ملک میں بہت بڑے پیمانے پر کھلم کھلا ایک گروہ کو لوٹنے ، جلانے اور قتل کرنے کے انتہائی بھیانک واقعات نہایت منظم طریقے پر مہوں اور مہینوں اور سالوں ہوتے رہیں ، مگر اس کے باوجود دنیا کا پریس ان سے بے خبر ہوا اور تاریخ کے صفحات سے وہ اس طرح محو ہو جائیں گویا کچھ ہوا ہی نہیں ـــ کیا یہ دنیا اسی لیے بنائی گئی تھی کہ مکاری ، شیطانیت ، درندگی اور ڈاک زنی کے ان ہولناک ڈراموں کا بس ایک اسٹیج بن کر رہ جائے اور اس کے بعد نہ ظالم کے لیے کچھ ہو اور نہ مظلوم کے لیے کچھ ـــ حقیقت یہ ہے کہ ایک ایسی دنیا خود اپنے سارے وجود کے ساتھ اس بات کا اعلان ہے کہ وہ نامکمل ہے ، اور اس کا نامکمل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک وقت آنا چاہیے جب وہ مکمل کی جائے ۔ اس بات کو ایک اور پہلو سے دیکھیے ۔ قدیم ترین زمانے سے انسان کے سامنے یہ مسئلہ رہا ہے کہ لوگوں کو حق و صداقت کی راہ پر کیسے قائم رکھا جائے ۔ اگر اس مقصد کے لیے تمام افراد کے مقابلے میں کچھ لوگوں کو سیاسی اختیار دیا جائے تو ہو سکتا ہے کہ ان کے ماتحت ان کی گرفت کے خوف سے زیادتیاں نہ کریں ـــ مگر اس تدبیر سے خود ان صاحب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader