Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تقاضا

Urdu book, p. 127

By Maulana Wahiduddin Khan

اختیار افراد کو عدل پر قائم رکھنے کا کوئی محرک موجود نہیں ہے۔ اگر اس مقصد کے لیے قانون بنایا جائے اور پولیس کا محکمہ قائم ہو تو ان مقامات اور مواقع پر آدمی کو کون کنٹرول کرے جہاں پولیس اور قانون نہیں پہنچتے اور نہیں پہنچ سکتے، اگر اپیل اور پروپیگنڈے کی مہم چلائی جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ محض کسی کی اپیل کی بنا پر کوئی شخص اپنے ملتے فائدے کو کیوں چھوڑ دے گا، دنیا کی سزا کا خوف بدعنوانیوں کو ہرگز روک نہیں سکتا، کیوں کہ ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ جھوٹ، رشوت، سفارش، اثرات کا ناجائز استعمال اور اسی قسم کے دوسرے بہت سے ذرائع موجود ہیں جو سزا کے ہر امکان کو یقینی طور پر ختم کر سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی ایسا محرک ہی بدعنوانیوں کو روکنے میں کارگر ہو سکتا ہے جو انسان کے اپنے اندر موجود ہو، جو انسان کے اپنے ارادے میں شامل ہو جائے خارجی محرک کبھی اس معاملے میں کامیاب نہیں ہو سکتا، اور یہ بات صرف آخرت کے تصور میں ممکن ہے، آخرت کے نظریے میں ایسا محرک موجود ہے جو بدعنوانیوں سے بچنے کے مسئلے کو ہر شخص کے لیے ذاتی مسئلہ بنا دیتا ہے۔ وہ ہر شخص کے لیے یکساں اہمیت رکھتا ہے، خواہ وہ ماتحت ہو یا افسر، اندھیرے میں ہو یا اجالے میں، ہر شخص یہ سوچنے لگتا ہے کہ اسے خدا کے یہاں جانا ہے، اور ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے، اور اس سے لازماً باز پرس کرے گا، مذہبی عقیدے کی اسی اہمیت کی بنا پر سترھویں صدی کے آخر کے ایک نامور جج میتھو ہیلز (1609-1676 Mathews Hale) نے کہا ہے ” یہ کہنا کہ مذہب ایک فریب ہے۔ ان تمام ذمہ داریوں اور پابندیوں کو منسوخ کرنا ہے جن سے سماجی نظم کو برقرار رکھا جاتا ہے۔“ To say that religion is a cheat is to dissolve all those obligations whereby civil societies are preserved. Religion Without Revelation, p. 115

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page