تقاضا
Urdu book, p. 128
By Maulana Wahiduddin Khan
نظر یہ آخرت کا یہ پہلو کتنا اہم ہے، اس کا اندازہ اس سے کیجیے کہ بہت سے لوگ جو خدا پر یقین نہیں رکھتے، اور جو اس بات کو بطور ایک واقعہ نہیں مانتے کہ کوئی فیصلہ کا دن آنے والا ہے، وہ بھی تاریخ کے تجربے کی بنا پر ماننے پر مجبور ہوئے ہیں کہ اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے، جو انسان کو قابو میں رکھ سکتی ہو اور بہر حال میں اس کو عدل و انصاف کی روش پر قائم رہنے کے لیے مجبور کر سکے، مشہور جرمن فلسفی کانٹ (1784-1804 ,Immanuel Kant) نے خدا کے تصور کو یہ کہہ کر رد کر دیا ہے کہ اس کی موجودگی کا کوئی تسلی بخش ثبوت ہم کو نہیں ملتا۔ اس کے نزدیک نظری معقولیت (theoretical reason) تو یقیناً مذہب کے حق میں نہیں ہے، مگر اخلاقی پہلو سے مذہب کی عملی معقولیت (practical reason) کو وہ تسلیم کرتا ہے۔ Story of Philosophy, NY, 1954, p. 279 فرنچ فلاسفر والٹیر (1694-1778 ,Voltaire) کسی ما بعد الطبیعی حقیقت کو نہیں مانتا، مگر اس کے نزدیک : " خدا اور دوسری زندگی کے تصور کی اہمیت اس لحاظ سے بہت زیادہ ہے کہ وہ اخلاقیات کے لیے مفروضے (postulates of the moral feeling) کا کام دیتے ہیں، اس کے نزدیک صرف اسی کے ذریعہ سے بہتر اخلاق کی فضا پیدا کی جا سکتی ہے، اگر یہ عقیدہ ختم ہو جائے تو حسن عمل کے لیے کوئی محرک باقی نہیں رہتا، اور اس طرح سماجی نظم کا برقرار رہنا ممکن ہو جاتا ہے۔“ History of Philosophy by Windelband, p.496 جو لوگ آخرت کو ایک فرضی تصور کہتے ہیں، ان کو سوچنا چاہیے کہ آخرت اگر فرضی ہے تو ہمارے لیے اس قدر ضروری کیوں ہے، کیوں ایسا ہے کہ اس کے بغیر ہم صحیح معنوں میں کوئی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader