Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تقاضا

Urdu book, p. 129

By Maulana Wahiduddin Khan

سماجی نظام بنا ہی نہیں سکتے، انسانی ذہن سے اس تصور کو نکالنے کے بعد کیوں ہماری ساری زندگی ابتر ہو جاتی ہے، کیا کوئی فرضی چیز زندگی کے لیے اس قدر ناگزیر ہو سکتی ہے، کیا اس کائنات میں ایسی کوئی مثال پائی جاتی ہے کہ ایک چیز حقیقت میں موجود نہ ہو مگر اس کے با وجود وہ اس قدر حقیقی بن جائے، زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو، مگر اس کے باوجود وہ زندگی سے اتنی متعلق نظر آئے، زندگی کی صحیح اور منصفانہ تنظیم کے لیے آخرت کے تصور کا اس قدر ضروری ہونا خود یہ ظاہر کرتا ہے کہ آخرت اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے، بلکہ اگر میں یہ کہوں تو اس میں کوئی مبالغہ نہ ہوگا کہ تصورِ آخرت کے حق میں استدلال کا یہ ایک ایسا پہلو ہے ، جو اس نظریے کو لیبارٹری ٹیسٹ کے معیار پر صحیح ثابت کر رہا ہے۔ 3۔ اب ایک اور پہلو سے دیکھیے، جس کو ہم ’’کائناتی تقاضا‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ پچھلے باب میں میں نے کائنات میں خدا کے وجود پر بحث کی ہے، اس سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ عین علمی اور عقلی مطالعہ ہی کا یہ تقاضا ہے کہ ہم اس کائنات کا ایک خدا مانیں، اب اگر اس دنیا کا کوئی خدا ہے تو یقیناً بندوں کے ساتھ اس کے تعلق کو ظاہر ہونا چاہیے، یہ کب ظاہر ہوگا، جہاں تک موجودہ دنیا کا معاملہ ہے، یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ آج یہ تعلق ظاہر نہیں ہو رہا ہے، آج جو شخص خدا کا منکر ہے، اور کھلے عام یہ اعلان کرتا ہے کہ ’’میں خدا سے نہیں ڈرتا‘‘، اس کو لیڈری اور حکومت حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس، جو خدا کے بندے خدا کا کام کرنے کے لیے اٹھتے ہیں، ان کی سرگرمیوں کو وقت کا اقتدار غیر قانونی قرار دے دیتا ہے، جو لوگ خدا کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’ہمارا ایکٹ چاند تک گیا اور راستہ میں کو کہیں خدا نہیں ملا‘‘۔ ان کے نظریات کو پھیلانے کے لیے بے شمار ادارے کام کر رہے ہیں، اور پورے پورے ملکوں کے ذرائع و وسائل ان کی خدمت کے لیے وقف ہیں، اور جو لوگ خدا اور مذہب کی بات پیش کر رہے ہیں، ان کو تمام ماہرین اور علمائے وقت رجعت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page