Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تقاضا

Urdu book, p. 130

By Maulana Wahiduddin Khan

پسند اور ماضی کے اندھیرے میں بھٹکنے والا کہہ کر رد کر دیتے ہیں ، لوگ پیدا ہوتے ہیں اور مر جاتے ہیں ، قومیں بنتی ہیں اور بگڑتی ہیں ، انقلاب آتے ہیں ، اور چلے جاتے ہیں ، سورج نکلتا ہے ، اور ڈوب جاتا ہے ، مگر خدا کی خدائی کا کہیں ظہور نہیں ہوتا ، ایسی حالت میں سوال یہ ہے کہ ہم خدا کو مانتے ہیں یا نہیں ، اگر ہم خدا کو مانتے ہیں تو ہمیں آخرت کو بھی ماننا پڑے گا ، کیوں کہ خدا اور بندوں کا تعلق ظاہر ہونے کی اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں۔ ڈارون اس دنیا کا ایک خالق (creator) تسلیم کرتا ہے ، مگر اس نے زندگی کی جو تشریح کی ہے ، اس کے اندر خالق اور مخلوق کے درمیان کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا اور نہ کائنات کے کسی ایسے انجام کی ضرورت معلوم ہوتی ہے ، جہاں یہ تعلق ظاہر ہو ، مجھے نہیں معلوم کہ ڈارون اپنے حیاتیاتی نقطہ نظر کے اس خلا کو کیسے پُر کرے گا مگر میری عقل کو یہ بات نہایت عجیب معلوم ہوتی ہے کہ اس کائنات کا ایک خدا تو ہو مگر دنیا سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو اور بندوں کے مقابلے میں اس کی جو مالکانہ حیثیت ہے وہ کبھی سامنے نہ آئے ، اتنی بڑی کائنات پیدا ہو کر ختم ہو جائے ، اور یہ ظاہر نہ ہو کہ اس کے وجود میں آنے کا مقصد کیا تھا ، اور جس نے اسے بنایا تھا ، وہ کس قسم کی صفات رکھنے والی ہستی تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر معقولیت کے ساتھ غور کیا جائے گا تو دل پکار اٹھے گا کہ بے شک قیامت آنے والی ہے ، بلکہ وہ آپ کو بالکل آتی ہوئی نظر آئے گی ۔ آپ دیکھیں گے کہ حاملہ کے پیٹ میں جس طرح اس کا حمل باہر آنے کے لیے بیتاب ہو ، اسی طرح وہ کائنات کے اندر بوجھل ہو رہی ہے ، اور قریب ہے کہ کسی بھی صبح و شام وہ انسانوں کے اوپر پھٹ پڑے۔ قرآن میں یہ حقیقت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّي ۖ لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ ۚ ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً (7:187) ۔ یعنی یہ لوگ پوچھتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page