Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تجرباتی شهادت

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

نظریہ ارتقا کا دعویٰ ہے کہ حیوانات کی مختلف نوعیں ایک ہی ابتدائی نوع سے ترقی کر کے وجود میں آئی ہیں، چنانچہ ڈارون کی تشریح کے مطابق موجودہ زمانہ ابتدائی دوسرے سم دار چوپایوں کی مانند تھا، مگر توالد و تناسل کے طویل عمل کے درمیان چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں (variations) کے جمع ہونے سے بالاخر وہ غیر معمولی طور پر ایک لمبا ڈھا نچہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا، اس کی وضاحت کرتے ہوئے وہ اپنی کتاب کے ساتویں باب میں لکھتا ہے " میرے نزدیک یہ تقریباً یقینی ہے کہ (اگر لمبی مدت تک مطلوبہ عمل جاری رہے تو) ایک معمولی سم دار چوپائے کو زرافہ کی صورت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔" اسی طرح جس نے بھی زندگی اور کائنات کی کوئی توجیہ کی ہے، بالکل فطری طور پر اس کو یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ جن حالات کی موجودگی کو وہ زندگی اور کائنات کا سبب قرار دیتا ہے ، وہی حالات اگر دوبارہ فراہم ہو سکیں تو یقیناً یہی واقعات دوبارہ وجود میں آسکتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ عقلی طور پر دوسری زندگی کا امکان اتنا ہی ہے جتنا پہلی زندگی کا، کائنات کا جو خالق بھی ہم تسلیم کریں، ہم کو ماننا پڑے گا کہ وہ خالق انھیں واقعات کو دوبارہ وجود میں لا سکتا ہے، جس کو اس نے ایک بار پیدا کیا ہے، اس اعتراف سے ہم صرف اسی صورت میں بچ سکتے ہیں، جب کہ ہم پہلی زندگی کا انکار کردیں، پہلی زندگی کو مان لینے کے بعد ہمارے پاس دوسری زندگی کو نہ ماننے کی کوئی بنیاد باقی نہیں رہتی۔ 2- نفسیاتی تحقیق جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے، اس کے مطابق لاشعور یا دوسرے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page