تجرباتی شهادت
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
لفظوں میں انسان کے حافظہ کے خانے میں اس کے تمام خیالات ہمیشہ کے لیے محفوظ رہتے ہیں، یہ واقعہ صریح طور پر ثابت کرتا ہے کہ انسان کا ذہن اس کے جسم کا حصہ نہیں ہے، جسم کا یہ حال ہے کہ اس کے ذرات ہر چند سال بعد بالکل بدل جاتے ہیں، لیکن لاشعور کے دفتر میں سو برس بعد بھی کوئی تغیر، کوئی دھندلاپن، کوئی مغالطہ یا شبہ پیدا نہیں ہوتا، اگر یہ دفتر حافظہ جسم سے متعلق ہے تو وہ کہاں رہتا ہے، جسم کے کس حصے میں ہے، اور جسم کے ذرات جب چند سال بعد غائب ہو جاتے ہیں تو وہ غائب کیوں نہیں ہوتا، یہ کون سا ریکارڈ ہے کہ ریکارڈ کی تختی ٹوٹ کر ختم ہو جاتی ہے، مگر وہ ختم نہیں ہوتا۔ جدید نفسیات کا یہ مطالعہ صریح طور پر ثابت کرتا ہے کہ انسانی وجود حقیقتًا اس جسم کا نام نہیں ہے، جس پر گھساؤ اور موت کا عمل طاری ہوتا ہے، بلکہ اس کے علاوہ اس کے اندر ایک اور چیز ہے، جس کے لیے فنا نہیں ہے، اور جو زوال میں مبتلا ہوئے بغیر اپنے وجود کو مستقل طور پر یکساں حال میں باقی رکھتا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فاصلہ اور وقت کے قوانین صرف ہماری موجودہ دنیا کے اندر رائج ہیں، اور اگر موت کے بعد کوئی اور دنیا ہے تو وہ ان قوانین کے دائرہ عمل سے باہر ہے۔ موجودہ زندگی میں ہمارا ہر شعوری فعل وقت اور فاصلہ کے قوانین کے مطابق سرزد ہوتا ہے۔ لیکن فرائڈ کے نظریے کے مطابق، اگر ہماری کوئی ذہنی زندگی ایسی ہے جو ان قوانین کی پابندی سے آزاد ہے تو اس کا مطلب صاف طور پر یہ ہے کہ ہماری یہ زندگی موت کے بعد بھی جاری رہے گی۔ ہم موت کے بعد بھی زندہ رہیں گے، ہماری موت خود فاصلہ اور وقت کے قوانین کے عمل کا نتیجہ ہے۔ چونکہ ہماری اصل ہستی یا فرائڈ کے الفاظ میں ہمارا لاشعوران قوانین کے عمل سے آزاد ہے۔ اس لیے ظاہر ہے کہ موت اس پر وارد نہیں ہوتی، بلکہ صرف جسدِ عنصری پر وارد ہوتی ہے۔ لاشعور جو اصل انسان ہے، وہ اس کے بعد بھی باقی رہتا ہے۔ مثلاً ایک واقعہ جو 25 سال پہلے گزراتھا___ یا ایک خیال جو میرے ذہن میں 20 سال پہلے آیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader