تجرباتی شهادت
Urdu book, p. 134
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا، اور اب میں اسے بالکل بھول چکا تھا۔ اس کو آج میں خواب میں دیکھتا ہوں ، نفسیاتی نقطۂ نظر سے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ میرے حافظہ (لاشعور) کے خانے میں بجنسہ موجود تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ حافظہ کہاں ہے، اگروہ خلیوں کے اوپرثبت تھا ، جیسے گراموفون کے ریکارڈ کے اوپر آواز ثبت رہتی ہے ، تو وہ خلیے جو 25 سال پہلے ان خیالات کا ریکارڈ بنے تھے، وہ بہت پہلے ٹوٹ کر اور مردہ ہو کر میرے جسم سے نکل گئے ، اب نہ ان خلیوں کا بحیثیت خلیہ کہیں وجود ہے ، اور نہ میرا ان سے کوئی تعلق ہے ، پھر یہ خیال میرے جسم کے کس مقام پر تھا۔ یہ ایک تجرباتی شہادت اس بات کی ہے کہ جسم کے ماورا ایک اور دنیا ہے ، جو بذات خود اپنا وجود رکھتی ہے ، جو جسم کے ختم ہونے سے ختم نہیں ہوتی۔ 3 ۔ اسی طرح سائی کیکل تحقیق (Psychical Research) کے جو نتائج سامنے آۓ ہیں، وہ بھی خالص تجرباتی اور مشاہداتی سطح پر موت کے بعد زندگی کے وجود کو ثابت کرتے ہیں۔ اس میں مزید دلچسپی کی بات یہ ہے کہ یہ نتائج صرف موت کے بعد کی زندگی کو ثابت نہیں کرتے ، بلکہ وہ یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ جس انسان کے اندر مرنے سے پہلے جو شخصیت تھی ، وہی شخصیت مرنے کے بعد بھی باقی رہے گی: What is most interesting is that such research does not merely establish survival; rather it establishes the survival of exactly the same personality-the entity that was known to us before death. انسان کی بہت سی ایسی خصوصیات ہیں جو بذاتِ خود تو پہلے سے موجود تھیں مگر ان پر سائنسی انداز سے غور و فکرمہیں ہوا تھا، مثلاً خواب دیکھنا انسان کی قدیم ترین خصوصیت ہے ، مگر جدید دور میں خواب کے مطالعہ سے جو نفسیاتی حقائق معلوم کیے گئے ہیں ، ان سے قدیم دور کے لوگ نا آشنا تھے ، اسی طرح کچھ اور مظاہر ہیں ، جن کے متعلق موجودہ زمانے میں باقاعدہ اعداد شمار جمع کیے گئے اور سائنسی انداز سے ان کا تجزیہ کیا گیا ، اس طرح جدید مطالعہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader