تجرباتی شهادت
Urdu book, p. 135
By Maulana Wahiduddin Khan
کے ذریعہ ان واقعات سے نہایت اہم نتائج برآمد ہوئے ہیں، اسی میں سے ایک سائی کیکل ریسرچ ہے، جو جدید نفسیات کی ایک شاخ ہے، اور جس کا مقصد انسان کی مافوق العادت صلاحیتوں کا تجرباتی مطالعہ ہے۔ اس قسم کی تحقیقات کے لیے سب سے پہلا ادارہ 1882 ء میں انگلینڈ میں قائم ہوا اور 1889 ء میں اس نے سترہ ہزار اشخاص سے رابطہ قائم کر کے وسیع پیمانے پر اپنی تحقیقات شروع کر دیں، یہ اب بھی مطالعہ نفسیات کا ادارہ (Society for Psychical Research) کے نام سے موجود ہے، اور اسی نوعیت کے دوسرے ادارے دوسرے ملکوں میں کام کر رہے ہیں، ان اداروں نے مختلف مظاہروں اور تجربات کے ذریعہ ثابت کیا ہے کہ مرنے کے بعد انسان کی شخصیت کسی پراسرار شکل میں باقی رہتی ہے۔ ایک سفری ایجنٹ مسوری (امریکا) میں سینٹ جوزف ہوٹل کے ایک کمرے میں بیٹھا ہوا اپنے آڈر نوٹ کر رہا تھا کہ یکایک “ وہ لکھتا ہے ” مجھے احساس ہوا کہ میرے دائیں جانب کوئی بیٹھا ہوا ہے، میں نے تیزی سے مڑ کر دیکھا تو صاف طور پر مجھے نظر آیا کہ وہ میری بہن ہے “ اس کی یہ بہن 9 سال پہلے مر چکی تھی، کچھ دیر بعد بہن کا یہ پیکر اس کے سامنے سے غائب ہو گیا۔ مگر اس واقعہ سے وہ اتنا متاثر ہوا کہ اپنا سفر جاری رکھنے کے بجائے وہ دوسری ٹرین سے اپنے وطن سینٹ لوئی (St. Louis) واپس ہو گیا، گھر آ کر اس نے واقعہ کی پوری تفصیل اپنے اعزہ کو بتائی، جب وہ کہتے کہتے اس جملہ پر پہنچا کہ ” میں نے بہن کے چہرے کے دائیں طرف سرخ رنگ کی ایک روشن خراش دیکھی “ تو اس کی ماں یکا یک کانپتے ہوئے قدموں کے ساتھ کھڑی ہو گئی اور اس نے بتایا کہ لڑکی کی موت کے بعد ایک اتفاقی سبب سے مجھ سے یہ خراش اس کے چہرے پر پڑ گئی تھی، اس بدنمائی کا مجھے سخت احساس ہوا، اور فوراً آیو ڈر لگا کر میں نے خراش کے تمام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader