Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

تجرباتی شهادت

Urdu book, p. 136

By Maulana Wahiduddin Khan

آثار اس کے چہرے سے مٹادیے اور پھر کبھی کسی سے اس کا ذکر نہیں کیا۔ (1) Human Personality and its Survival of Bodily Death by F. W. H. Myers (N. Y. 1930, vol llP. 27-30 اس طرح کے اور بہت سے واقعات ہیں، جو مرنے کے بعد شخصیتوں کی موجودگی کا ثبوت فراہم کرتے ہیں، اس طرح کے واقعات کو وہم و خیال نہیں کہا جاسکتا، کیوں کہ چہرے کی خراش کا علم یا تو ماں کو تھا یا مردہ لڑکی کو، تیسرا کوئی بھی شخص اس کو قطعاً نہیں جانتا تھا۔ دوسرے قسم کے واقعات جو زندگی بعد موت کا تجرباتی ثبوت فراہم کرتے ہیں، وہ ایسے لوگ ہیں، جن کو خودکار (automatists) کہا جاتا ہے، یہ وہ مرد یا عورتیں ہیں، جن سے ایسے افعال ظاہر ہوتے ہیں، جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ کسی مرنے والے کی روح اس کے اندر رہتی ہے، ایسا شخص اپنے تجربہ کرنے والے کے سامنے چند ایسے واقعات پیش کرتا ہے، جن کو صرف ایک مرا ہوا آدمی جانتا ہے، اور جو چند دن بعد صحیح ثابت ہوتے ہیں۔ اسی طرح مثلاً دیکھا جاتا ہے کہ وہ کسی شخص سے بات کر رہا ہے، اور اسی کے ہاتھ میں پنسل لیے ہوئے بالکل دوسرے موضوع پر لکھ رہا ہے، جس کے مضمون کی اسے خود بھی اس وقت تک اطلاع نہیں ہوتی جب تک کہ وہ لکھنے کے بعد اسے پڑھ نہ لے، گویا اس کے اندر اس اس طرح کے واقعات محض یورپ اور امریکہ کی خصوصیات نہیں ہیں، بلکہ دنیا کی ہر آبادی میں اس کی (1) مثالیں پائی جاتی ہیں۔ چوں کہ موجودہ زمانے کی بیشتر تحقیقات یورپ اور امریکہ ہی کے جغرافیہ میں ہوئی ہیں، اس لیے علمی شہادتوں کے سلسلے میں عموماً انھیں کا ذکر آتا ہے، اگر کچھ باحوصلہ لوگ ہمارے علاقے میں اس کام کو شروع کریں تو کثرت سے نہایت معتبر اور قوی شہادتیں فراہم ہوسکتی ہیں، مجھے ذاتی طور پر خود بھی بعض ایسے واقعات کا علم ہے جو اس سلسلے میں نہایت حیرت انگیز شہادت فراہم کرتے ہیں۔ ہمارے مذہبی لٹریچر میں بھی اس نوعیت کا کافی مواد موجود ہے۔ مثال کے طور پر کتاب الروح اور انفاس العارفین، وغیرہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page