تجرباتی شهادت
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
کے سوا کوئی اور شخصیت ہے، جو اس کے ہاتھ سے لکھوا رہی ہے۔ A Philosophical Scrutiny of Religion, p.407-10 اس استدلال کو قبول کرنے میں بہت سے جدید ذہنوں کو تامل ہے، سی ڈی، براڈ (C. D. Broad) لکھتا ہے: ”سائی کیکل ریسرچ کے مشتبہ استثنا کے علاوہ سائنس کی مختلف شاخوں میں سے کوئی شاخ زندگی بعد موت کا ادنی امکان بھی ثابت نہیں کرتی۔“ Religion Philosophy and Psychical Research, London 1953, p.235 اگر یہ استدلال ایسا ہی ہے، جیسے کہا جائے کہ ”سوچنا“ ایک مشتبہ فعل ہے۔ کیوں کہ انسان کے سوا کوئی ایسا جو اس کائنات میں ہمارے تجربے میں نہیں آیا ہے، جو ”سوچنے“ کے مظہر کی تصدیق کرتا ہو۔ ظاہر ہے کہ زندگی کا باقی رہنا یا باقی نہ رہنا ایک نفسیاتی مسئلہ ہے، اس لیے نفسیات ہی سے اس کا ثبوت یا عدم ثبوت ملے گا، کسی اور سائنس میں اس کی تصدیق ڈھونڈنا ایسا ہی ہے، جیسے سوچنے کے فطری مظہر کو سمجھنے کے لیے نباتات اور فلزیات (metallography) سے تصدیق طلب کی جائے، یہی نہیں بلکہ خود انسان کے جسمانی حصے کے مطالعہ کو بھی اس کی تصدیق یا تردید کے لیے بنیاد بنایا نہیں جاسکتا۔ کیوں کہ جس چیز کی بقا کا یہ دعویٰ کیا گیا ہے، وہ موجودہ مادی جسم نہیں، بلکہ وہ روح ہے، جو جسم سے ماسوا جسم کے اندر موجود رہتی ہے۔ چنانچہ دوسرے بہت سے سائنس داں جنھوں نے ان شواہد کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کیا ہے وہ زندگی بعد موت کو بطور واقعہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں، راؤن یونیورسٹی میں فلسفہ کے پروفیسری، جے، ڈو کاس (C. J. Ducasse) نے اپنی کتاب کے سترھویں باب میں زندگی بعد موت کے تصور کا فلسفیانہ اور نفسیاتی جائزہ لیا ہے، پروفیسر موصوف اگرچہ مذہب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader