تجرباتی شهادت
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
کے معنوں میں اخروی زندگی کے تصور پر عقیدہ نہیں رکھتے ،مگر ان کا خیال ہے کہ ایسے شواہد موجود ہیں کہ مذہب کے عقیدے سے الگ کر کے زندگی کے بقا کو, ہمیں ماننا پڑتا ہے، اس باب کے آخری حصے میں وہ سائی کیکل ریسرچ کی تحقیقات کا جائزہ لینے کے بعد لکھتے ہیں: " کچھ بہت ہی ذہین اور نہایت ذی علم افراد جنھوں نے سالہا سال تک نہایت تنقیدی نظر سے متعلقہ شہادتوں کا مطالعہ کیا ہے، وہ بالآخر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کم از کم کچھ شواہد ایسے ضرور ہیں ،جن میں صرف بقائے روح کا مفروضہ ( survival of hypothesis ) ہی معقول اور ممکن نظر آتا ہے۔ ان کی دوسری کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی ۔ اس فہرست کے انتہائی نمایاں افراد میں سے چند کے نام یہ ہیں: الفریڈ رسل ویلس (Alfred Russel Wallace) سرولیم کروکس(Sir William Crookes) ایف، ڈبلیو، ایچ، میرس(F.M.H. Myers) کیسر لومبراسو (Cesare Lombroso) کیمیل فلیمیزین (Camille Flammarion) سراولیورلاج (Sir Oliver Lodge) ڈاکٹر رچرڈ ہاگسن (Dr.Richard Hodgson) مسز ہنری سڈوک (Mrs Henry Sidgwick) پروفیسر ہسلوب(Professor Hyslop) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موت کے بعد زندگی کا عقیدہ جس کو بہت سے لوگ مذہبی طور پر مانتے ہیں، نہ صرف یہ کہ صحیح ہو سکتا ہے بلکہ شاید وہ ایک ایسا عقیدہ ہے، جس کو تجرباتی دلیل (empirical proof ) سے ثابت کیا جا سکتا ہے، اور اگر ایسا ہے تو قطع

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader