تمهید
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
لیے موجودہ زمانے میں جو طریقہ اختیار کیا جاتا ہے، اسی کو عام فہم انداز میں مذہب کے اثبات کے لیے استعمال کیا جائے۔ یہاں ایک اور بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے۔ یہ انداز جس کے تحت اس کتاب میں دین کی حمایت و مدافعت کی گئی ہے، ممکن ہے اہل دین میں سے بعض ذہنوں کو اجنبی یا نامناسب معلوم ہو۔ اگر ایسا ہو تو میں کہوں گا کہ اس کتاب کو اس نظر سے دیکھنا چاہیے کہ یہ ایک متکلمانہ ضرورت کے طور پر لکھی گئی ہے، نہ کہ تشریح دین کے طور پر۔ دین کی مجرد تعبیر و تشریح جو مومن و مسلم طبیعتوں کو سامنے رکھ کر کی جائے اس کا انداز دوسرا ہوتا ہے، لیکن جب سامنے ایسے لوگ ہوں جو ایمان و اسلام کو محض اس قسم کا فریب سمجھتے ہوں اور جب دین و مذہب کے خلاف اٹھائے ہوئے سوالات کا مقابلہ کرنا ہو تو قدرتی طور پر بات کا انداز بدل جاتا ہے۔ ایسی صورت میں ضروری ہو جاتا ہے کہ معاند کے ذہن کو پیش نظر رکھ کر بات کہی جائے اور اس کی اپنی زبان اور اصطلاحات میں کلام کیا جائے جب کہ مومن و مسلم کا معاملہ ہو تو گفتگو اپنی فطری شکل میں باقی رہتی ہے۔ اس بات کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ موجودہ دور میں فکر اور استدلال کا انداز بالکل بدل گیا ہے۔ اس لیے موجودہ دور کا علم کلام بھی پہلے کے مقابلے میں بہت کچھ مختلف ہوگا۔ اگر یہ بات ذہن میں ہو تو کتاب کے مباحث کے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہو سکتی۔ وحید الدین خاں 26 اگست 1964ء، لکھنؤ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader