مخالفینِ مذہب کا مقدمہ
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
مخالفین مذہب کا مقدمہ ”جس طرح ایٹم کے ٹوٹنے سے مادہ کے بارے میں انسان کے پچھلے تمام تصورات ختم ہو گئے، اسی طرح پچھلی صدی میں علم کی جو ترقی ہوئی ہے، وہ بھی ایک قسم کا علمی دھما کہ (knowledge explosion) ہے، جس کے بعد خدا اور مذہب کے متعلق تمام پرانے خیالات بھک سے اڑ گئے ہیں‘‘ (ہندوستان ٹائمس، سنڈے میگزین، 24 ستمبر 1961ء)۔ یہ جولین ہکسلے کے الفاظ میں علم جدید کا چیلنج ہے، اور ان صفحات میں مجھے اسی چیلنج کا جواب دینا ہے۔ مصنف کا یقین ہے کہ علم کی روشنی مذہب کی صداقت کو اور زیادہ واضح کرنے میں مددگار ہوئی ہے، اس نے کسی بھی اعتبار سے مذہب کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا ہے، دورِ جدید کی ساری دریافتیں صرف اس بات کا اعتراف ہیں کہ آج سے ڈیڑھ ہزار برس پہلے اسلام کا یہ دعویٰ کہ وہ آخری صداقت ہے اور آئندہ کی تمام انسانی معلومات اس کی صداقت کو اور مبرہن کرتی چلی جائیں گی، بالکل صحیح تھا۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی، عنقریب ہم دکھائیں گے اپنی نشانیاں ان کو آفاق میں اور خود ان کے اندر یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے کہ وہ حق ہے۔ جدید بے خدا مفکرین کے نزدیک مذہب کوئی حقیقی چیز نہیں ہے، وہ انسان کی صرف اس خصوصیت کا نتیجہ ہے کہ وہ کائنات کی توجیہ کرنا چاہتا ہے۔ تو جیہ تلاش کرنے کا انسانی جذبہ بذاتِ خود غلط نہیں ہے مگر کم تر معلومات نے ہمارے پرانے اجداد کو ان غلط جوابات تک پہنچا دیا جس کو خدا یا مذہب کہا جاتا ہے۔ اب جس طرح بہت سے دوسرے معاملات میں انسان نے اپنی علمی ترقی سے ماضی کی غلطیوں کی اصلاح کی ہے، اسی طرح توجیہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader