اثباتِ رسالت
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے، جس نے اپنے ہاتھ سے تالے کو چھوا تھا۔ کتنے جانور ہیں، آوازیں سنتے ہیں، جو ہماری قوت سماعت سے باہر ہیں۔ بے شک انسان کے حواس بہت محدود ہیں، مگر اس جانور کے حواس کا معاملہ مختلف ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جانوروں میں اشراق (Telepathy) کی زبردست صلاحیت پائی جاتی ہے، ایک مادہ پتنگے (moth) کو کوٹھے میں کھلی کھڑکی کے پاس رکھ دیجیے۔ وہ کچھ مخصوص اشارے کرے گی۔ یہ اشارے اسی نوع کے نر پتنگے حیرت انگیز فاصلے سے سن لیں گے اور اس کا جواب دیں گے۔ جھینگُر اپنے پاؤں یا پر ایک دوسرے پر رگڑتا ہے، رات کے سناٹے میں آدھے میل دور تک یہ آواز سنائی دیتی ہے، یہ چھو سوتن ہوا کو ہلاتا ہے، اور اس طرح اپنے جوڑے کو بلاتا ہے، اس کی مادہ جو بظاہر بالکل خاموش ہوتی ہے۔ مگر پر اسرار طریقہ پر کوئی ایسا بے آواز جواب دیتی ہے جو نر تک پہنچ جاتا ہے۔ نر اس پر اسرار جواب کو جسے کوئی بھی نہیں سنتا، حیرت انگیز طور پر سن لیتا ہے، اور ٹھیک اسی سمت میں اس کے مقام پر جا کر اس سے مل جاتا ہے اندازہ لگایا گیا ہے کہ ایک معمولی ٹڈے کے (grasshopper) کی قوت سماعت اس قدر تیز ہوتی ہے کہ ہائیڈروجن کے ایٹم کے نصف قطر کے برابر کی حرکت تک کو وہ محسوس کر لیتا ہے۔ اس طرح کی کثیر مثالیں موجود ہیں، جو یہ بتاتی ہیں کہ ایسے ذرائع مواصلات ممکن ہیں، جو بظاہر نظر نہ آتے ہوں مگر اس کے باوجود وہ بطور واقعہ موجود ہوں اور مخصوص حواس رکھنے والے ذی حیات اس کا ادراک کر لیتے ہوں، ان حالات میں اگر ایک شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ”مجھے خدا کی طرف سے ایسی آوازیں سنائی دیتی ہیں، جن کو عام لوگ نہیں سنتے“ تو اس میں اچھنبے کی کیا بات ہے، اگر اس دنیا میں ایسی آوازیں ممکن ہیں، جو آلات سنتے ہوں مگر انسان نہ سنتے ہوں، اگر یہاں ایسی پیغام رسانی ہو رہی ہے، جس کو ایک مخصوص جانور سن لیتا ہے، مگر دوسرا اسے نہیں سنتا، تو آخر اس واقعہ میں استبعاد کا کیا پہلو ہے کہ خدا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader