اثباتِ رسالت
Urdu book, p. 142
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنی مصالح کے تحت بعض مخفی ذرائع سے ایک انسان تک اپنا پیغام بھیجتا ہے، اور اس کے اندر ایسی صلاحیتیں پیدا کر دیتا ہے کہ وہ اس کو اخذ کر سکے اور اس کو پوری طرح سمجھ کر قبول کرلے، حقیقت یہ ہے کہ وحی والہام کے تصور اور ہمارے مشاہدات و تجربات میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے، بلکہ یہ اسی قسم کے مشاہدات کی ایک بر تر صورت ہے، جس کا مختلف شکلوں میں ہم تجربہ کر چکے ہیں۔ یہ ایک امکان کو واقعہ کی صورت میں تسلیم کرنا ہے۔ پھر اشراق اور غیب دانی کے تجربات بتاتے ہیں کہ یہ چیز صرف حیوان تک محدود نہیں بلکہ انسان کے اندر بھی بالقوہ اس قسم کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر الکسس کیرل کے الفاظ میں ـــ فرد کی نفسیاتی سرحدیں مکاں اور زماں کے اندر محض فرضی (suppositions) ہوتی ہیں: The psychological frontiers of the individual in space and time are obviously suppositions. (Man, the Unknown, p. 244) چنانچہ ایک عامل کسی آواز اور خارجی ذریعہ کے بغیر اپنے معمول پر توجہ ڈالتا ہے، جس کے نتیجہ میں وہ اس پر مصنوعی نیند (Hypnotic Sleep) طاری کر سکتا ہے، اس کو ہنسایا رلا سکتا ہے، اس کے ذہن میں مخصوص خیالات القاء کر سکتا ہے یہ ایک ایسا عمل ہے، جس میں نہ کوئی ظاہری آلہ استعمال ہوتا اور نہ عامل اور معمول کے سوا کوئی شخص اسے محسوس کرتا، پھر اسی نوعیت کا واقعہ بندے اور خدا کے درمیان کیوں ہمارے لیے ناقابل تصور ہو، خدا کو ماننے اور انسانی زندگی میں اشراقی قوت کا تجربہ کر لینے کے بعد ہمارے لیے وحی والہام سے انکار کی کوئی بنیاد باقی نہیں رہتی۔ دسمبر 1950ء کا واقعہ ہے۔ بویریا کے حکام (Bavarian authorities) نے ایک عامل توجہ (Hypnotist) فرنٹڑ سٹرو بل (Fronter Strobel) پر ایک ریڈیو پروگرام میں ”خلل اندازی بذریعہ ٹیلی پیتھی“ کے الزام میں مقدمہ دائر کر دیا۔ ریجنا ہوٹل واقع میونخ میں اپنے کرتب کا مظاہرہ کرتے ہوئے سٹروبل نے ایک تماشہ میں کو تاش کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader