اثباتِ رسالت
Urdu book, p. 143
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک پتہ اٹھا کر دیا اور اس سے کہا کہ وہ اس کا نام حسب منشا ترتیب کے ساتھ اپنے دل میں سوچ لے۔ ہپناٹسٹ نے دعویٰ کیا کہ وہ اس پتے کا نام مع ترتیب (جیسا کچھ پتہ اٹھانے والے نے اپنے دل میں سوچ رکھا تھا) خود جانے بغیر ریڈیو کے اناؤنسر کی جانب منتقل کر دے گا، جو اس وقت ریڈیو پر خبریں سنا رہا تھا۔ چند ہی سیکنڈ بعد حیرت زدہ سامعین نے میوخ ریڈیو کے اناؤنسر کی لڑکھڑاتی زبان میں سنا’’ریجنا ہوٹل، حکم کی ملکہ‘‘ پتے کا نام بھی درست تھا، اور ترتیب بھی پتہ اٹھانے والے کی سوچ کے عین مطابق تھی۔ اناؤنسر کی وحشت اس کی آواز سے واضح طور پر ظاہر ہورہی تھی۔ تاہم وہ خبریں سنائے چلا گیا ادھر سیکڑوں ریڈیو سننے والے اس عجیب واقعہ کا سبب معلوم کرنے کے لیے براڈ کاسٹنگ اسٹیشن کو ٹیلی فون کر رہے تھے، کیوں کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ خبروں کے پروگرام کے درمیان ’’ریجنا ہوٹل، حکم کی ملکہ‘‘ کے الفاظ کا کیا مطلب ہے۔ اکثر لوگوں نے سمجھا کہ اناؤنسر شاید اس وقت شراب کے نشے میں تھا۔ ڈاکٹر معائنہ کے لیے آیا تو اس نے پایا کہ اناؤنسر شدید اضطرابی کیفیت میں مبتلا ہے۔ اناؤنسر نے بتایا کہ خبریں پڑھتے پڑھتے اس کے سر میں اچانک ایک درد سا اٹھا، اس کے بعد اسے کچھ یاد نہیں کہ کیا ہوا (1)۔ میں کہوں گا کہ اگر انسان کو یہ قدرت حاصل ہے کہ ایک انسان کے خیالات (1) غیب دانی اور اشراق ( ٹیلی پیتھی) کے ان ثابت شدہ مظاہر کی توجیہہ کے لیے مختلف نظریے پیش کیے گئے ہیں۔ مثلاً یہ کہ دماغ سے کسی قسم کی لہریں نکلتی ہیں، جو نہایت تیزی سے عالم میں پھیل جاتی ہیں، چنانچہ اس کو نظریہ امواج دماغی Brain-Wave Theory کہا جاتا ہے۔ Religion, Philosophy and Psychical Research by C.D. broad, P.47,48 نیز ملاحظہ ہو، الکسر کیرل کی کتاب، Man, the Unknown ، صفحات 49-244۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader