اثباتِ رسالت
Urdu book, p. 144
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرے انسان کو منتقل کردے، جب کہ دونوں کے درمیان غیر معمولی فاصلہ ہو اور اس کے لیے کوئی ظاہری واسطہ استعمال نہ کیا گیا ہو تو القائے کلام کا یہی واقعہ خالق کائنات کی طرف سے کیوں وجود میں نہیں آسکتا۔ انسانی صلاحیت کا یہ اظہار، جس کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔ یہ ایک تجرباتی قرینہ ہے، جس سے ہم اس امکان کو باآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ خدا اور بندے کے درمیان کسی واسطہ کے بغیر کس طرح الفاظ اور معانی کا تعلق قائم ہوتا ہے، اور ایک کے خیالات دوسرے کو بعینہ منتقل ہوجاتے ہیں۔ اشراقی پیغام رسانی جو بندوں کے درمیان ایک معلوم اور ثابت شدہ واقعہ ہے، ایک ایسی مثال ہے، جس سے ہم اس اشراق کو سمجھ سکتے ہیں، جو بندے اور خدا کے درمیان ہوتا ہے، اور جس کی کامل اور متعین صورت کو مذہب کی اصطلاح میں ’’وحی‘‘ کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وحی اپنی نوعیت کے اعتبار سے، بلاتشبیہ، اسی قسم کا ایک مخصوص کائناتی اشراق ہے، جس کا تجربہ محدود پیمانے پر ہم انسانی زندگی میں بار بار کر چکے ہیں اور کرتے رہتے ہیں۔ وحی والہام کو ممکن ماننے کے بعد اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اس کی ضرورت بھی ہے یا نہیں کہ خدا کسی انسان سے مخاطب ہو اور اس کے ذریعہ سے اپنا کلام بھیجے، اس کی ضرورت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ رسول آدمی کو جس چیز سے باخبر کرتا ہے، وہ آدمی کی شدید ترین ضرورت ہے، مگر وہ خود اپنی کوشش سے اسے حاصل نہیں کر سکتا ہزاروں برس سے انسان حقیقت کی تلاش میں ہے، وہ سمجھنا چاہتا ہے کہ یہ کائنات کیا ہے، انسان کا آغاز و انجام کیا ہے، خیر کیا ہے اور شر کیا ہے، انسان کو کیسے قابو میں لایا جائے، زندگی کو کیسے منظم کیا جائے کہ انسانیت کے سارے تقاضے اپنے صحیح مقام کو پاتے ہوئے متواتر ترقی کر سکیں، مگر ابھی تک اس تلاش میں کامیابی نہیں ہوئی۔ تھوڑی مدت کی تلاش و جستجو کے بعد ہم نے لوہے، اور پٹرول کی سائنس بالکل ٹھیک ٹھیک جان لی اور طبیعی دنیا کی سیکڑوں سائننسوں کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader