اثباتِ رسالت
Urdu book, p. 145
By Maulana Wahiduddin Khan
بارے میں صحیح ترین واقفیت حاصل کرلی، مگر انسان کی سائنس ابھی تک دریافت نہیں ہوئی۔ طویل ترین مدت کے درمیان بہترین دماغوں کی لاتعداد کوششوں کے باوجود یہ سائنس ابھی تک اپنے موضوع کی ابتدائیات کو بھی متعین نہ کرسکی۔ اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ اس معاملے میں ہمیں خدا کی مدد کی ضرورت ہے، اس کے بغیر ہم اپنا ’’دین‘‘ معلوم نہیں کرسکتے۔ یہ بات انسانِ جدید کو تسلیم ہے کہ زندگی کا راز ابھی تک اس کو معلوم نہ ہوسکا، مگر اسی کے ساتھ وہ یقین رکھتا ہے کہ وہ کبھی نہ کبھی اس راز کو معلوم کرلے گا، سائنس اور صنعت کے پیدا کیے ہوئے ماحول کا انسان کے لیے سازگار نہ ہونا، اسی وجہ سے ہے کہ اگر ایک طرف جامد مادے کے علوم کی وسیع پیمانے پر ترقی ہوئی ہے تو دوسری طرف جاندار ہستیوں کے علوم بالکل ابتدائی حالت پر باقی ہیں‘‘۔ اس دوسرے شعبہ پر جن لوگوں نے کام کیا، وہ حقیقت کو نہ پاسکے، اور اپنے تخیلات کی دنیا میں بھٹک رہے ہیں۔ نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر الکس کیرل (Alexis Carrel) کے الفاظ میں۔ ’’فرانسیسی انقلاب کے اصول اور مارکس اور لینن کے نظریے محض ذہنی اور قیاسی انسانوں پر منطبق ہوسکتے ہیں، اس بات کو صاف طور پر محسوس کرنا چاہیے کہ انسانی تعلقات کے قوانین (Laws of Human Relations) اب تک معلوم نہیں ہوسکے ہیں، سماجیات اور اقتصادیات کے علوم محض قیاسی ہیں، اور ناقابلِ ثبوت ہیں۔‘‘ The Principles of the French Revolution, the Visions of Marx and Lenin, apply only to abstract men. It must be clearly realised that the laws of human relations are still unknown. Sociology and economics are conjectural sciences - that is pseudo-sciences. (Man, the Unknown, p. 37) بلاشبہ موجودہ زمانے میں علوم نے بہت ترقی کی ہے، مگر ان ترقیات نے مسئلے کو اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader