Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

اثباتِ رسالت

Urdu book, p. 146

By Maulana Wahiduddin Khan

الجھا دیا ہے، اس نے کسی بھی درجہ میں اس کو حل کرنے میں کوئی مدد نہیں کی ہے۔ ہے، ڈبلیو، این سولیون (J. W. N. Sullivan) لکھتا ہے: ’’سائنس نے موجودہ زمانے میں جس کائنات کو دریافت کیا ہے، وہ تمام فکری تاریخ کے مقابلے میں بہت زیادہ پر اسرار ہے، اگرچہ فطرت کے بارے میں ہماری معلومات تمام پچھلے ادوار کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں، مگر اس کے باجود یہ کثیر معلومات ایک اعتبار سے بہت کم تشفی بخش ہیں۔ کیوں کہ ہر سمت میں ہم ابہام (ambiguities) اور تضاد (contradictions) سے دوچار ہورہے ہیں۔‘‘ At the present day the scientific universe is more mysterious than it has ever been before in the history of thought. Although our knowledge of natural processes is greater than it has ever been, this knowledge is, in a way, less satisfactory, for in every direction we are faced by ambiguities and contradictions. (Limitations of Science, 1938, p. 89-90) زندگی کے راز کو مادی علوم میں تلاش کرنے کا یہ عبرت ناک انجام بتاتا ہے کہ زندگی کا راز انسان کے لیے نا قابل دریافت ہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ڈاکٹر الیکس کیرل کی کتاب صفحات 19-16)۔ ایک طرف صورت حال یہ ہے کہ زندگی کی حقیقت کو جاننا ضروری ہے، اس کے بغیر ہم کوئی عمل نہیں کر سکتے، ہمارے بہترین جذبات اسے جاننا چاہتے ہیں، ہماری ہستی کا اعلیٰ ترین جز، جس کو ہم فکر یا ذہن کہتے ہیں، وہ اس کے بغیر مطمئن ہونے کے لیے کسی طرح راضی نہیں، ہماری زندگی کا سارا نظام اس کے بغیر ابتر ہے اور لایخل معماد بنا ہوا ہے، دوسرے لفظوں میں یہ ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے، مگر یہی سب سے بڑی ضرورت ہم خود سے پوری نہیں کر سکتے۔ کیا یہ صورت حال اس بات کی کافی دلیل نہیں ہے کہ انسان ”وحی‘‘ کا محتاج

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page