Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

اثباتِ رسالت

Urdu book, p. 147

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ زندگی کی حقیقت کا انتہائی ضروری ہونے کے باوجود انسان کے لیے ناقابل دریافت ہونا ظاہر کرتا ہے کہ اس کا تعلق اس فہرست کائنات سے ہے، جس میں قدرت نے روشنی اور حرارت جیسی چیزوں کو درج کر رکھا ہے۔ روشنی اور حرارت انسان کے لیے ضروری ہے۔ اس کے باوجود یہ انسان کے بس سے باہر ہے۔ مگر قدرت نے حیرت انگیز طور پر سورج کے ذریعہ اس کا انتظام کر دیا ہے۔ اسی طرح زندگی کے سوال کا جواب دینے کے لیے خارج سے انتظام کیا گیا ہے۔ وحی الہام کو ممکن اور ضروری تسلیم کر لینے کے بعد اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ جو شخص اس کا دعویٰ کر رہا ہے، وہ فی الواقع صاحب وحی ہے یا نہیں، ہمارے عقیدے اور ایمان کے مطابق اس قسم کے صاحبان وحی بہت کثیر تعداد میں اس زمین پر پیدا ہو چکے ہیں، مگر اس باب میں ہم خاص طور پر آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوائے نبوت پر گفتگو کریں گے، اس لیے کہ آپ کے دعوائے نبوت کا ثابت ہونا دراصل سارے انبیائے کے دعوائے نبوت کا ثابت ہونا ہے، کیوں کہ آپ دیگر انبیاء کے منکر نہیں ہیں، بلکہ ان کی تصدیق کرنے والے ہیں، اور اس لیے بھی کہ اب موجودہ اور آئندہ نسلوں کے لیے آپ ہی خدا کے رسول ہیں، آپ کے بعد اب کوئی دوسرا رسول آنے والا نہیں ہے، اس لیے عملاً اب نسل انسانی کی نجات و خسران کا معاملہ آپ ہی کے دعوائے نبوت کو ماننے یا نہ ماننے سے متعلق ہے۔ سن عیسوی کے لحاظ سے 29 اگست 570ء کی صبح کو مکہ میں ایک بچہ پیدا ہوا، چالیس سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد اس نے یہ اعلان کیا کہ خدا نے مجھ کو اپنا آخری رسول بنایا ہے، اور میرے پاس اپنا پیغام بھیج کر مجھے اس خدمت کے لیے مامور کیا ہے کہ میں اس کے پیغام کو تمام انسانوں تک پہنچا دوں، جو میری اطاعت کرے گا وہ خدا کے یہاں سرفراز ہوگا اور جو میری نافرمانی کرے گا وہ ہلاک کر دیا جائے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page