Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

اثباتِ رسالت

Urdu book, p. 148

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ آواز آج بھی پوری شدت کے ساتھ ہمارے سروں پر گونج رہی ہے، یہ ایسی آواز نہیں ہے کہ کوئی شخص اس کو سنے اور نظر انداز کردے، بلکہ یہ ایک زبردست مطالبہ ہے، اس آواز کا تقاضا ہے کہ ہم اس کے اوپر غور کریں، اس کے بعد اگر اس کو غلط پائیں تو کھلے دل سے اسے رد کردیں اور صحیح پائیں تو کھلے دل سے اس کو قبول کرلیں۔ جدید معیار کے مطابق، کسی تصور کے علمی حقیقت بننے کے لیے اسے تین مرحلوں سے گزرنا ہوتا ہے: 1 مفروضہ (hypothesis) 2 مشاہدہ (observation) 3 تصدیق (verification) پہلے ایک مفروضہ یا تصور ذہن میں آتا ہے، پھر مشاہدہ کیا جاتا ہے، اس کے بعد اگر مشاہدہ سے اس کی تصدیق ہو جائے تو اس مفروضہ کو واقعہ تسلیم کر لیا جاتا ہے، اس ترتیب میں کبھی فرق بھی ہو جاتا ہے، یعنی پہلے کچھ مشاہدات سامنے آتے ہیں، اور ان مشاہدات سے ایک تصور یا مفروضہ ذہن میں قائم ہوتا ہے، پھر جب یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ مشاہدات فی الواقع اس مفروضہ کی تصدیق کر رہے ہیں تو وہ حقیقت قرار پا جاتا ہے۔ اس اصول کے مطابق نبی کا دعوائے نبوت گو یا ایک مفروضہ“ کے طور پر ہمارے سامنے ہے۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ مشاہدات اس کی تصدیق کر رہے ہیں یا نہیں، اگر مشاہدات اس کے حق میں گواہی دے دیں تو اس کی حیثیت ایک مصدقہ حقیقت (verified fact) کی ہو جائے گی، اور ہمارے لیے ضروری ہو جائے گا کہ ہم اس کو تسلیم کریں۔ اب دیکھیے کہ وہ کیا مشاہدات ہیں جو اس مفروضہ“ کی تصدیق کے لیے درکار ہیں جن کی بنیاد پر ہم نبی کے دعوے کو جانچیں اور اس کے مطابق دعوے کا صحیح یا غلط ہونا معلوم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page