اثباتِ رسالت
Urdu book, p. 149
By Maulana Wahiduddin Khan
کریں ۔ دوسرے لفظوں میں وہ کون سے خارجی مظاہر ہیں ، جن کی روشنی میں یہ متعین ہوتا ہے کہ آپ فی الواقع خدا کے رسول تھے ، ذات رسول میں جمع ہونے والی وہ کون سی خصوصیات ہیں ، جن کی توجیہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتی کہ ہم ان کو خدا کا رسول مانیں ، میرے نزدیک یہ حسب ذیل ہیں ، جو شخص اپنے بارے میں رسول ہونے کا دعویٰ کرے ، اس کے اندر دو خصوصیات لازمی طور پر ہونی چاہئیں۔ 1۔ ایک یہ کہ وہ غیر معمولی طور پر ایک معیاری انسان ہو ، کیوں کہ وہ شخص جس کو ساری نسل انسانی میں اس لیے چنا جائے کہ وہ خدا سے ہم کلام ہو اور زندگی کی درستگی کا پروگرام اس کے ذریعہ سے منکشف کیا جائے ، یقینی طور پر اس کونسل انسانی کا بہترین فرد ہونا چاہیے اور اس کی زندگی میں اس کے آدرشوں (ideals) کو بہ تمام و کمال ظہور کرنا چاہیے ، اگر اس کی زندگی ان اوصاف سے مزین ہے تو یہ اس کے دعوے کی صداقت کا کھلا ہوا ثبوت ہے ، کیوں کہ اس کا دعویٰ اگر غیر حقیقی ہو تو وہ زندگی میں اتنی بڑی حقیقت بن کر نمایاں نہیں ہو سکتا کہ اس کو اخلاق و کردار میں ساری انسانیت میں بلند کر دے۔ 2۔ دوسرے یہ کہ اس شخص کا کلام اور اس کا پیغام ایسے پہلووں سے بھرا ہوا ہونا چاہیے جو عام انسان کے بس سے باہر ہوں ، جس کی امید کسی ایسے ہی انسان سے کی جاسکتی ہو ، جس پر مالک کائنات کا سایہ پڑا ہو۔ عام انسان ایسا کلام پیش کرنے پر قادر نہ ہو سکیں۔ یہ دو معیار ہیں جن پر ہمیں رسول کے دعوائے نبوت کو جانچنا ہے۔ پہلی بات کے سلسلے میں تاریخ کی قطعی شہادت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام محمد بن عبد الله ایک غیر معمولی سیرت کے آدمی تھے۔ ہٹ دھرمی کے ذریعہ تو کسی بھی حقیقت کا انکار ممکن ہے ، اور دھاندلی کی زبان میں ہر الٹی بات کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔ مگر جو شخص تعصب کا مریض نہ ہو اور کھلے دل سے حقیقت کا مطالعہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو ، وہ لازماً تسلیم کرے گا کہ آپ کی زندگی اخلاقی حیثیت سے نہایت اعلیٰ و ارفع تھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader