Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

اثباتِ رسالت

Urdu book, p. 150

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام کو چالیس سال کی عمر میں نبوت ملی۔ اس سے پہلے آپ کی پوری زندگی اخلاقی لحاظ سے اس قدر اعلیٰ تھی کہ آپ کو لوگ سچا اور دیانت دار کہہ کر پکارنے لگے تھے۔ "الصَّادِقُ الأمِينُ‘‘ آپ کا مشہور لقب بن گیا تھا۔ قدیم مکہ میں آپ کے متعلق بلا استثنا یہ بات مانی جاتی تھی کہ آپ ایک نہایت ایمان دار شخص ہیں، اور کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔ دعوائے نبوت سے پانچ سال پہلے کا واقعہ ہے کہ قریش نے کعبہ کی تعمیر نو کا ارادہ کیا۔ جب تعمیر ہونے لگی تو اس بات پر شدید اختلاف پیدا ہو گیا کہ حجر اسود کو نئی تعمیر میں کون شخص اس کی جگہ پر نصب کرے، چار پانچ دن تک یہ اختلاف جاری رہا اور قریب تھا کہ کہ تلواریں چل جائیں، بالآخر طے پایا کہ اس جھگڑے کا فیصلہ وہ شخص کرے گا جو کل صبح کو سب سے پہلے بیت اللہ میں داخل ہو، دوسرے دن لوگوں نے جب سب سے پہلے داخل ہونے والے انسان کو دیکھا تو پکار اٹھے ’’هَذَا الأَمِينُ قَدْ رَضِينَا بِمَا قَضَى بَيْنَنَا‘‘ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد 1، صفحہ 116)۔ امین آگیا، ہم سب راضی ہیں، جو فیصلہ وہ ہمارے درمیان کریں۔ ہمیں تاریخ میں کسی ایسے شخص کا علم نہیں جس کی زندگی بحث و نزاع کا موضوع بننے سے پہلے چالیس سال تک لوگوں کے سامنے رہی ہو اور اس کے جاننے والے اس کی سیرت و کردار کے بارے میں اتنی غیر معمولی رائے رکھتے ہوں۔ پہلی بار آپ پر غارِ حرا میں وحی اتری تو یہ آپ کے لیے ایک ایسا غیر معمولی واقعہ تھا، جس کا آپ کو پہلے کبھی تجربہ نہیں ہوا تھا، آپ شدتِ احساس کے ساتھ گھر لوٹے اور اپنی اہلیہ سے، جو آپ سے عمر میں بڑی تھیں، اس واقعہ کا ذکر کیا۔ اہلیہ کا جواب تھا: ’’خدا کی قسم، اللہ یقیناً آپ کی حفاظت کرے گا، کیوں کہ آپ سچ بولتے ہیں، آپ دیانت دار ہیں، آپ برائی کا بدلہ بھلائی سے دیتے ہیں، اور لوگوں کے حقوق ادا کرتے ہیں۔‘‘ (دیکھیے، صحیح البخاری، حدیث نمبر 3)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page