Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

اثباتِ رسالت

Urdu book, p. 151

By Maulana Wahiduddin Khan

ابوطالب آپ کے چچاتھے، ان کے سامنے آپ نے اسلام کی دعوت پیش کی تو انھوں نے یہ کہہ کر اسے ماننے سے انکار کر دیا کہ میں اپنے باپ دادا کے دین کو چھوڑ نہیں سکتا، مگر اس کے بعد جب انھیں اپنے لڑکے علی (رضی اللہ تعالی عنہ) سے معلوم ہوا کہ وہ آپ پر ایمان لاچکے ہیں تو ابوطالب نے کہا’’بیٹے! تم اس کے لیے آزاد ہو کیوں کہ مجھے یقین ہے کہ محمد تم کو خیر کے سوا کسی چیز کی طرف نہیں بلائیں گے‘‘۔ (آئیڈیل پرافت صفحہ 68) نبوت ملنے کے بعد جب آپ نے پہلی بار صفا پہاڑی کے دامن میں لوگوں کو جمع کر کے اپنی دعوت پیش کی اس وقت آپ نے اپنی دعوتی تقریر شروع کرنے سے پہلے حاضرین سے یہ سوال کیا’’تمہارا میرے متعلق کیا خیال ہے‘‘۔ جواب میں بالاتفاق یہ آواز آئی: مَا جَرَبْنَا عَلَيْكَ إِلَّا صِدْقًا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4770)۔ یعنی، تمہارے اندر ہم نے سچائی کے سوا کوئی اور بات کبھی نہیں دیکھی ہے۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ابتدائی زندگی کے بارے میں یہ ایک ایسا ممتاز تاریخی ریکارڈ ہے جس کی مثال کسی بھی شاعر، فلسفی، مفکر یا مصنف کے یہاں نہیں مل سکتی۔ جب آپ نے پیغمبری کا اعلان کیا تو مکہ کے لوگ جو آپ کو اچھی طرح جانتے تھے، ان کے لیے یہ سوال خارج از بحث تھا کہ آپ کو نعوذ باللہ جھوٹا یا جعل ساز سمجھیں ۔ کیوں کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اب تک کی پوری زندگی کے خلاف تھا۔ اس لیے انھوں نے کبھی آپ پر اس قسم کا الزام نہیں لگایا۔ بلکہ کہا تو یہ کہا کہ اس شخص کی عقل کھو گئی ہے، وہ شاعرانہ مبالغہ کر رہے ہیں، اور ان پر کسی کا جادو چل گیا ہے، ان پر جنات سوار ہے، وغیرہ۔ مخالفین نے یہ سب کچھ کہا مگر کسی کی جرات یہ نہ ہوئی کہ وہ آپ کی صداقت اور دیانت داری پر شبہ ظاہر کرے۔ یہ حیرت انگیز بات ہے کہ ایک شخص جس کی قوم اس کی دشمن ہو چکی ہے، اور وطن میں اس کا رہنا بھی اسے گوارا نہیں ہے، اس شخص کے بارے میں اس کی دشمن قوم کا حال تاریخ یہ بیان کرتی ہے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page