اثباتِ رسالت
Urdu book, p. 152
By Maulana Wahiduddin Khan
لَيْسَ بِمَكَّةَ أَحَدٌ عِنْدَهُ شَيْءٌ يُخْشَى عَلَيْهِ إِلَّا وَضَعَهُ عِنْدَهُ، لِمَا يَعْلَمُ مِنْ صِدْقِهِ وَأَمَانَتِهِ (سیرت ابن ہشام جلد 1، صفحہ 485)۔ یعنی مکہ میں جس کسی کے پاس بھی کوئی ایسی چیز ہوتی جس کے بارے میں اسے کسی قسم کا اندیشہ ہوتا تو اسے آپ کے پاس رکھ دیتا، کیوں کہ ہر ایک کو آپ کی سچائی اور دیانتداری کا یقین تھا۔ نبوت کے تیرہویں سال عین اس وقت جب کہ آپ کے مخالفین آپ کا مکان گھیرے ہوئے کھڑے تھے، اور اس بات کا قطعی فیصلہ کر چکے تھے کہ باہر نکلتے ہی آپ کو قتل کر دیں گے، آپ گھر کے اندر اپنے نوجوان عزیز علی بن ابی طالب کو یہ وصیت کر رہے تھے کہ میرے پاس مکہ کے فلاں فلاں لوگوں کا مال امانت رکھا ہوا ہے، میرے جانے کے بعد تم ان سب کا مال انھیں واپس کر دینا۔ نضر بن حارث جو آپ کا مخالف ہونے کے ساتھ دنیوی معاملَات میں قریش کے اندر سب سے زیادہ تجربہ کار تھا، اس نے ایک روز اپنی قوم سے کہا۔”قریش کے لوگو! محمد کی دعوت نے تم کو ایسی مشکل میں ڈال دیا ہے، جس کا کوئی حل تمہارے پاس نہیں ہے، وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے بچپن سے جوان ہوئے ہیں، تم اچھی طرح جانتے ہو کہ وہ تمہارے درمیان سب سے زیادہ سچے، سب سے زیادہ امانت دار اور سب سے زیادہ پسندیدہ شخص تھے، لیکن جب ان کے بال سفید ہونے کو آئے اور انھوں نے وہ کلام پیش کیا، جس کو تم سن رہے ہو تو اب تمہارا احال یہ ہے کہ تم کہتے ہو” یہ شخص جادوگر ہے، یہ شاعر ہے، یہ مجنون ہے“ خدا کی قسم میں نے محمد کی باتیں سنی ہیں، محمد نہ جادوگر ہے، نہ وہ شاعر ہے، نہ وہ مجنون ہے، مجھے یقین ہے کہ کوئی اور مصیبت تمہارے اوپر آنے والی ہے“ (سیرت ابن ہشام، جلد 1 صفحہ 319)۔ ابو جہل جو آپ کا سخت ترین دشمن تھا، وہ کہتا تھا ”محمد! میں یہ نہیں کہتا کہ تم جھوٹے ہو، مگر جس چیز کی تم تبلیغ کر رہے ہو اس کو میں صحیح نہیں سمجھتا“؛ اِنَّا لَا نُكَذِّبُكَ،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader