اثباتِ رسالت
Urdu book, p. 153
By Maulana Wahiduddin Khan
وَلَكِنْ نُكَذِّبُ بِمَا جِئْتَ بِهِ (جامع الترمذی، حدیث نمبر 3064 )۔ آپ کی نبوت چوں کہ صرف عرب کے لیے نہیں تھی، بلکہ ساری دنیا کے لیے تھی، اس لیے اپنی زندگی ہی میں آپ نے ہمسایہ ممالک کے بادشاہوں کو دعوتی خطوط روانہ کیے، روم کے بادشاہ ہرقل (قیصر روم) کو بھی آپ نے دعوت نامہ بھیجا۔ (اس کو آپ کا دعوت نامہ بیت المقدس میں ملا، جہاں وہ اُن دنوں ایرانیوں پر فتح یابی کا شکرانہ ادا کرنے کے لیے آیا ہوا تھا)۔ چنانچہ اس نے حکم دیا کہ عرب کے کچھ لوگ یہاں ہوں تو حاضر کیے جائیں۔ اس زمانے میں قریش کے چند لوگ تجارت کی غرض سے شام گئے ہوئے تھے ــــ وہ دربار میں پہنچے تو ہرقل نے پوچھا تمہارے شہر میں جس شخص نے خدا کا رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے، تم میں سے کوئی اس کا قریبی رشتہ دار بھی ہے ــــ ابو سفیان نے جواب دیا: وہ میرے خاندان کا ہے۔ اس کے بعد ہرقل اور ابوسفیان کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اس کے چند فقرے یہ ہیں: ہرقل: اس دعوے سے پہلے کبھی تم نے اس کو جھوٹ بولتے ہوئے بھی سنا ہے۔ ابوسفیان: کبھی نہیں۔ ہرقل: کیا وہ عہد و پیمان کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ ابوسفیان: ابھی تک اس نے کسی عہد کی خلاف ورزی نہیں کی۔ ہرقل نے یہ سن کر کہا: ”جب یہ تجربہ ہو چکا ہے کہ وہ آدمیوں کے معاملے میں کبھی جھوٹ نہیں بولا، تو یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اس نے خدا کے معاملے میں اتنا بڑا جھوٹ گڑھ لیا ہو“۔ یہ اس وقت کی گفتگو ہے جب کہ ابوسفیان ابھی ایمان نہیں لائے تھے، اور رسول اللہ کے کٹر دشمن تھے، بلکہ آپ کے خلاف جنگ کی قیادت کر رہے تھے۔ وہ خود کہتے ہیں کہ ”اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ ہرقل کے دربار میں جو دوسرے قریشی بیٹھے ہوئے ہیں، وہ مجھے جھوٹا مشہور کر دیں گے تو میں اس موقع پر غلط بیانی سے کام لیتا“ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader