اثباتِ رسالت
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
ساری تاریخ میں کسی بھی ایسے شخص کا نام نہیں لیا جاسکتا جس کے مخاطبین شدید مخالف ہونے کے باوجود اس کی زندگی اور سیرت کے بارے میں اتنی غیر معمولی رائے رکھتے ہوں، اور یہ واقعہ بجائے خود آپ کے رسول اللہ ہونے کا کافی ثبوت ہے، یہاں میں ڈاکٹر لیٹر کا ایک اقتباس نقل کروں گا: ”میں بہت ادب کے ساتھ یہ کہنے کی جرات کرتا ہوں کہ اگر فی الواقع خدائے پاک کے یہاں سے، جو تمام نیکیوں کا سر چشمہ ہے، الہام ہوتا ہے تو محمد کا مذہب الہامی مذہب ہے، اور اگر ایثار نفس دیانت داری، راسخ الاعتقادی، نیکی اور بدی کی کامل جانچ اور برائی دور کرنے کے عمدہ ذرائع ہی الہام کی ظاہری بین علامتیں ہیں تو محمد کا مشن الہامی تھا۔“ Life of Mohammad by M. Abdul Fazal جب آپ نے دعوت دینی شروع کی تو آپ کی قوم نے سخت ترین مصیبتیں ڈالیں، آپ کی راہ میں کانٹے بچھا دیتے، نماز پڑھنے میں آپ کے جسم پر نجاست لاکر انڈیل دیتے ، ایک دفعہ آپ حرم میں نماز پڑھ رہے تھے، عقبہ ابن ابی محیط نے آپ کے گلے میں چادر لپیٹ کر اس زور سے کھینچا کہ آپ گھٹنوں کے بل گر پڑے، اس قسم کی حرکتوں سے جب آپ پر کوئی اثر نہیں ہوا تو انہوں نے آپ کا اور آپ کے سارے خاندان کا بائیکاٹ کر دیا اور آپ کو مجبور کیا کہ بستی سے باہر ایک پہاڑی درہ میں جا کر بے یار ومددگار پڑے رہیں، اس دوران میں کوئی ضرورت کی چیز حتی کہ کھانا پینا بھی نہ کوئی شخص آپ تک پہنچا سکتا تھا، اور نہ آپ کے ہاتھ فروخت کر سکتا تھا— آپ اپنے خاندان کے ساتھ تین سال تک اس حصار میں اس طرح رہے کہ پہاڑی درخت (طلح) کے پتے کھاتے تھے، آپ کے ایک ساتھی کا بیان ہے کہ اس زمانے میں ایک دفعہ رات کو سوکھا ہوا چمڑا ہاتھ آگیا میں نے پانی سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader