Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

اثباتِ رسالت

Urdu book, p. 155

By Maulana Wahiduddin Khan

اسے دھویا، پھر آگ پر بھونا اور پانی میں ملا کر کھایا۔ تین سال کے بعد یہ بائیکاٹ ختم ہوا۔ (دیکھیے، سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 77-374) مکہ کے لوگوں کی یہ سنگ دلی دیکھ کر آپ طائف گئے جو مکہ سے تقریباً چالیس میل کے فاصلہ پر امراء و روساء کا شہر تھا، وہاں کے لوگوں نے آپ سے نہایت بُری طرح کلام کیا، ایک نے کہا: ’’کیا خدا کو تیرے سوا کوئی اور پیغمبری کے لیے نہیں ملتا تھا۔‘‘۔ پھر ان لوگوں نے بدکلامی ہی پر اکتفا نہیں کی بلکہ طائف کے شریروں کو ابھار کر آپ کے پیچھے لگا دیا۔ یہ لوگ ہر طرف سے آپ کے اوپر ٹوٹ پڑے اور آپ پر پتھر پھینکنا شروع کیا، انھوں نے اس بری طرح آپ کو زخمی کیا کہ آپ کے جوتے خون سے بھر گئے، آپ زخموں سے چور ہو کر بیٹھ جاتے تو بازو تھام کر کھڑا کر دیتے جب چلنے لگتے تو پھر پتھر برساتے، ساتھ ساتھ گالیاں دیتے اور تالی بجاتے، اسی طرح شام ہونے تک آپ کے پیچھے لگے رہے، شام کو جب وہ زخم اور خون کی حالت میں آپ کو چھوڑ کر چلے گئے تو آپ نے ایک باغ میں انگور کی ٹٹیوں کی آڑ میں پناہ لی، یہی وہ واقعہ ہے، جس کے متعلق آپ نے ایک مرتبہ حضرت عائشہ سے فرمایا: لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمِكِ مَا لَقِيتُ ، وَكَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3231)۔ یعنی تمھاری قوم سے مجھ کو بہت سی تکلیفیں پہنچی ہیں، مگر میرے اوپر سب سے زیادہ تکلیف والا دن وہ تھا، جب میں طائف گیا۔ ان تمام ایذارسانیوں کے باوجود آپ اپنا کام کرتے رہے، بالآخر قریش نے طے کیا اب اس کے سوا کوئی صورت نہیں ہے کہ آپ کو قتل کر دیا جائے، چنانچہ ایک رات کو قریش کے تمام سرداروں نے ننگی تلواروں کے ساتھ آپ کا مکان پر گھیر ا ڈال دیا، تا کہ صبح کو جب آپ باہر نکلیں تو آپ کو قتل کر دیا جائے، مگر اللہ کی مدد سے آپ بحفاظت گھر سے نکل گئے اور مدینہ جا کر قیام فرمایا۔ اس کے بعد قریش نے آپ کے ساتھ باضابطہ جنگ چھیڑ دی، اور دس سال تک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page