Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

اثباتِ رسالت

Urdu book, p. 156

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلسل آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو جدال وقتال میں الجھائے رکھا، جس میں آپ کے دانت شہید ہوئے، بہترین ساتھی مارے گئے، وہ تمام مصائب جھیلنے پڑے جو جنگی حالت پیدا ہو جانے کے بعد جھیلنے ہوتے ہیں۔ اس طرح 23 سالہ تاریخ کے بعد آپ کی عمر کے آخری دنوں میں مکہ فتح ہوا، اس وقت آپ کے دشمن بے یارومددگار آپ کے سامنے کھڑے تھے، ایسے وقت میں فاتح جو کچھ کرتا ہے، وہ سب کو معلوم ہے، مگر آپ نے ان سے کوئی انتقام نہیں لیا، آپ نے پوچھا: ”یا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، مَا تَرَوْنَ أَنّیِ فَاعِلٌ فِيکُمْ؟“ (قریش کے لوگو! بتاؤ اب تمھارے ساتھ کیا معاملہ کروں گا، انھوں نے کہا آپ شریف بھائی ہیں، اور شریف بھائی کی اولاد ہیں، آپ نے فرمایا: اِذْهَبُوْا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاء (سیرت ابن ہشام، جلد 2 صفحہ 412)۔ جاؤ، تم سب کے سب آزاد ہو۔ اعلیٰ ترین سلوک کی یہ حیرت انگیز مثال تاریخ کا ایک ایسا معجزہ ہے کہ اگروہ تاریخ سے قبل کا ہوتا اور تاریخی طور پر ثابت نہ ہوتا تو یقیناً کہنے والے کہتے کہ یہ واقعہ نہیں بلکہ افسانہ ہے، کیوں کہ کوئی انسان اب تک ایسا پیدا نہیں ہوا، جو اپنے سخت ترین دشمنوں پر فتح پانے کے بعد ان سے اتنا اعلیٰ ترین سلوک کرے۔ چنانچہ پروفیسر اسمته(Bosworth Smith) کے الفاظ کس قدر صحیح ہیں: ”جب میں آپ کے جملہ صفات اور تمام کارناموں پر بحیثیت مجموعی نظر ڈالتا ہوں کہ آپ کیا تھے، اور کیا ہو گئے اور آپ کے تابع دار پیروؤں نے جن میں آپ نے زندگی کی روح پھونک دی تھی ، کیا کیا کارنامے دکھائے تو آپ مجھے سب سے بزرگ سب سے برتر اور اپنی نظیر آپ ہی دکھائی دیتے ہیں۔“

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page