اثباتِ رسالت
Urdu book, p. 157
By Maulana Wahiduddin Khan
پھر آپ نے اپنی ساری زندگی میں جس بے غرضی کا مظاہرہ کیا ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے، منصب رسالت سے پہلے آپ مکہ کے ایک کامیاب تاجر تھے، اور آپ کے نکاح میں حضرت خدیجہ جیسی عرب کی دولت مند خاتون تھیں لیکن رسالت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد آپ کی تجارت اور حضرت خدیجہ کی دولت دونوں ختم ہوگئیں، اور آپ کو اس سلسلے میں اتنی مصیبتیں اٹھانی پڑیں کہ آپ خود فرماتے ہیں ۔ ”مجھے خدا کی راہ میں اس قدر ڈرایا اور ستایا گیا کہ کسی کو اتنا ڈرایا اور ستایا نہیں گیا، مجھ پر تیس شب و روز ایسے گزرے ہیں کہ میرے اور بلال کے لیے کھانا، جسے کوئی جاندار کھا سکے، بس اتنی مقدار میں ہوتا تھا کہ بلال اسے بغل میں چھپا لیتے‘‘ (جامع الترمذی، حدیث نمبر 2472)۔ آپ نے صرف اپنے مشن کی خاطر یہ تکلیفیں اٹھائیں، ورنہ آپ کے لیے دوسری زندگی بھی ممکن تھی، جب آپ مکہ میں تھے، قریش کی کچھ سردار یہ پیش کش لے کر آپ کے پاس آئے۔ اگر اس دعوت سے تم مال و دولت چاہتے ہو تو آؤ ہم اتنا مال جمع کر دیں کہ تم سب سے بڑے مال دار بن جاؤ، اگر اس سے سرداری مطلوب ہے تو بتاؤ ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں کہ تمھیں اپنا سردار مان لیں، اور اگر سلطنت کی خواہش ہے تو ہم تمھیں اپنا بادشاہ بھی تسلیم کر لیں گے، اگر یہ واقعہ نہیں ہے اور تم اپنے اندر جنون کی کیفیت پاتے ہو اور تمھیں ایسی چیزیں نظر آتی ہیں جنھیں تم دور نہیں کر سکتے تو ہم تمہار اعلاج کرنے کے لیے بھی تیار ہیں“: فَإِنْ كُنْتَ إِنَّمَا جِئْتَ بِهَذَا الْحَدِيْثِ تَطْلُبُ بِهِ مَالًا جَمَعْنَا لَكَ مِنْ أَمْوَالِنَا حَتَّى تَكُونَ أَكْثَرَنَا مَالًا ، وَإِنْ كُنْتَ إِنَّمَا تَطْلُبُ بِهِ الشَّرْفَ فِيْنَا ، فَنَحْنُ نُسَوَّدُكَ عَلَيْنَا ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ مُلْكًا مَلَّكْنَاكَ عَلَيْنَا ، وَإِنْ كَانَ هَذَا الَّذِي يَأْتِيكَ رِئْيَا تَرَاهُ قَدْ غَلَبَ عَلَيْكَ - وَكَانُوا يُسَمُّونَ التَّابِعَ مِنَ الْجِنِّ رُئْيَا -

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader