Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

اثباتِ رسالت

Urdu book, p. 158

By Maulana Wahiduddin Khan

فَرُبَّمَا كَانَ ذَلِكَ، بَذَلْنَالَكَ أَمْوَالَنَا فِي طَلَبِ الطِّبِّ لَكَ حَتَّى نُبْرَئَكَ مِنْهُ۔ ان کی باتوں کو آپ خاموشی سے سنتے رہے۔ اس کے بعد جواب دیا: نہ میں دیوانہ ہوں، نہ مجھے کوئی بیماری ہے، نہ مجھے مال اور حکومت کی لالچ ہے، بلکہ میں تم لوگوں کا خیر خواہ ہوں، میرے پاس تم لوگوں کے لیے سچائی کا پیغام ہے، وہ قبول کرو (سیرت ابن ہشام جلد 1، صفحہ 63-262)۔ مدینہ میں آپ ایک ریاست کے مالک تھے، آپ کو ایسے جان نثار خادم حاصل تھے کہ ان جیسے وفادار اور جاں نثار ساتھی، آج تک کسی کو نہیں ملے، مگر واقعات بتاتے ہیں کہ آخر عمر تک آپ نے بالکل معمولی حالت میں گزار دی۔ حضرت عمر اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ”میں آپ کے حجرہ میں داخل ہوا تو دیکھا کہ آپ بغیر قمیص کے کھجور کی معمولی چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں، اور آپ کے جسم پر چٹائی کے نشانات صاف نظر آرہے ہیں، حجرہ میں چاروں طرف نظر دوڑائی تو اس کا کل اثاثہ یہ تھا: ایک طرف تین چمڑے، ایک کونے میں کچھ چھال اور دوسرے کونے میں تقریباً ایک صاع جو، یہ منظر دیکھ کر میں بے اختیار رو پڑا، آپ نے پوچھا روتے کیوں ہو، میں نے عرض کیا، قیصر وکسریٰ کو تو دنیا کی دولت حاصل ہے، اور آپ خدا کے رسول اس حال میں ہیں، یہ سن کر آپ بیٹھ گئے اور فرمایا: عمر! آخردم کس خیال میں ہو، کیا تم نہیں چاہتے کہ ان کو دنیا ملے اور آخرت ہمارے حصے میں آئے: ”اَمَّا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمَا الدُّنْيَا، وَلَكَ الْآخِرَةُ“ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1479)۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ مہینہ گزر جاتا تھا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے مکانات میں چولہا نہیں جلتا تھا، عروہ نے پوچھا تو آپ لوگ زندہ کیسے رہتی تھیں، انھوں نے جواب دیا کہ کھجور اور پانی ہماری غذا تھی، ساتھ ہی بعض انصار دودھ بھیج دیا کرتے تھے، ان ہی کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page