Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

اثباتِ رسالت

Urdu book, p. 159

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسری روایت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ آنے کے بعد ایسا کبھی نہیں ہوا کہ آپ کے گھر والوں نے مسلسل تین دن گیہوں کا استعمال کیا ہو، اور اسی حالت میں آپ دنیا سے چلے گئے (مسند احمد، حدیث نمبر 24768)۔ آپ نے قدرت رکھنے کے باوجود اس طرح زندگی گزاری اور جب دنیا سے رخصت ہوئے تو اپنی بیویوں اور اولاد کے لیے کچھ نہیں چھوڑا، نہ دینار نہ درہم، نہ بکری نہ اونٹ اور نہ کسی چیز کی وصیت کی، اس کے بجائے دنیا کی عظیم ترین سلطنت کے بانی جس کو اپنی زندگی میں یہ معلوم تھا کہ اس کی حکومت ایشیا اور افریقہ سے گزرتی ہوئی یورپ کی سرحدوں تک پہنچ جائے گی، اس نے فرمایا: لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1757) ۔ ہم (پیغمبروں) کا کوئی وارث نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔ آپ کے اخلاق و کردار اور آپ کے اخلاص و ایثار کے واقعات جو اوپر پیش کیے گئے ہیں، یہ کچھ مستثنیٰ واقعات نہیں ہیں، بلکہ یہی آپ کی پوری زندگی ہے، آپ کی ساری زندگی اسی قسم کے واقعات کا دوسرا نام ہے، حقیقت یہ ہے کہ آپ کا معیارِ انسانیت اتنا بلند تھا کہ اگر آپ پیدا نہ ہوتے تو تاریخ کو لکھنا پڑتا کہ اس سطح کا انسان نہ کوئی پیدا ہو اور نہ کبھی پیدا ہو سکتا۔ ایسے غیر معمولی انسان کے بارے میں یہ عجیب نہیں ہوگا کہ ہم اس کو خدا کا رسول مان لیں، بلکہ یہ عجیب ہوگا کہ ہم اس کے رسول ہونے کا انکار کر دیں، کیوں کہ آپ کو رسول مان کر ہم صرف آپ کی معجزاتی شخصیت کی توجیہہ کرتے ہیں، اگر ہم آپ کو رسول نہ مانیں تو ہمارے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں رہتا کہ ان حیرت انگیز اوصاف کا سر چشمہ کیا تھا، جب کہ ساری معلوم تاریخ میں کوئی ایک بھی انسان پیدا نہیں ہوا۔ پروفیسر باسور تھ اسمتھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page