اثباتِ رسالت
Urdu book, p. 160
By Maulana Wahiduddin Khan
کے یہ الفاظ ایک لحاظ سے حقیقت و واقعہ کا اعتراف ہیں، اور دوسرے لحاظ سے وہ سارے انسانوں کو آپ کی رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں : ”محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنی زندگی کے آخر میں بھی اپنے لیے اسی منصب کا دعویٰ کیا، جس سے انھوں نے اپنے کام کا آغاز کیا تھا، اور میں یہ یقین کرنے کی جرأت کرتا ہوں کہ اعلیٰ ترین فلسفہ اور سچی مسیحیت ایک روز یہ تسلیم کرنے پر متفق ہوں گے کہ آپ ایک پیغمبر تھے، خدا کے سچے پیغمبر۔“ Mohammad and Mohammadenism, p. 344 دوسرے پہلو سے رسول کی رسالت کا سب سے بڑا ثبوت وہ کتاب ہے، جس کو اس نے یہ کہہ کر پیش کیا کہ وہ اس کے اوپر خدا کی طرف سے اتری ہے، یہ کتاب بے شمار ایسی خصوصیات سے بھری ہوئی ہے، جو اس کے بارے میں اس امر کا قطعی قرینہ پیدا کرتی ہیں کہ یہ ایک غیر انسانی کلام ہے، جو خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔ یہ بحث چوں کہ مستقل اہمیت کی حامل ہے، اس لیے اس کو میں الگ باب میں بیان کروں گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader