قرآن خدا کی آواز
Urdu book, p. 161
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن — خدا کی آواز پیغمبر اسلام کی ایک حدیث ہے: پیغمبروں میں سے ہر پیغمبر کو اللہ تعالیٰ نے ایسے معجزات دیے جن کو دیکھ کر لوگ ایمان لائے اور مجھ کو جو معجزہ عطا ہوا ہے، وہ قرآن ہے: مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلَّا أُعْطِيَ مَا مِثْلَهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ إِلَيَّ ( صحیح البخاری ، حدیث نمبر 4981)۔ یہ ارشاد ہماری تلاش کے صحیح رخ کو متعین کرتا ہے، وہ بتاتا ہے کہ رسول کی رسالت کو پہچاننے کے لیے آج ہمارے پاس جو سب سے بڑا ذریعہ وہ کتاب ہے جس کو رسول نے یہ کہہ کر پیش کیا تھا کہ وہ اس کے پاس خدا کی طرف سے اتری ہے۔ قرآن، رسول کا نمائندہ بھی ہے، اور رسول کے رسول برحق ہونے کی دلیل بھی۔ قرآن کی وہ کیا خصوصیات ہیں، جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے اترا ہے، اس کے بہت سے پہلو ہیں، یہاں میں چند پہلوؤں کا مختصر ذکر کروں گا: 1۔ اس سلسلے میں سب سے پہلی چیز جو قرآن کے طالب علم کو متاثر کرتی ہے، وہ قرآن کا چیلنج ہے، جو چودہ سو برس سے دنیا کے سامنے ہے، مگر آج تک اس کا جواب نہ دیا جا سکا، قرآن میں بار بار یہ اعلان کیا گیا ہے کہ جو لوگ قرآن کے کتاب الہیٰ ہونے کے بارے میں مشتبہ ہیں، اور اس کو محض اپنے جیسے ایک انسان کی تصنیف سمجھتے ہیں، وہ ایسی ایک کتاب بنا کر پیش کریں، بلکہ اس کی جیسی ایک سورہ ہی بنا کر دکھادیں۔ قرآن کے الفاظ ہیں: وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (2:23)۔ یعنی اپنے بندے پر اپنا جو کلام ہم نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader