Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

قرآن ؀ خدا کی آواز

Urdu book, p. 162

By Maulana Wahiduddin Khan

اتارا ہے، اگر اس کے (کلام الہیٰ ہونے کے بارے میں شبہ ہے تو اس کے جیسی ایک سورہ لکھ کر لے آؤ اور خدا کے سوا اپنے تمام مددگاروں کو بھی بلا لو، اگر تم اپنے خیال میں سچے ہو۔ یہ ایک حیرت انگیز دعویٰ ہے، جو ساری انسانی تاریخ میں کسی بھی مصنف نہیں کیا اور نہ بقید ہوش وحواس کوئی مصنف ایسا دعویٰ کرنے کی جرأت کر سکتا، کیوں کہ کسی بھی انسان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ایک ایسی کتاب لکھ دے جس کے ہم پایہ کتاب دوسرے انسان نہ لکھ سکتے ہوں، ہر انسانی تصنیف کے جواب میں اسی درجہ کی دوسری انسانی تصنیف تیار کی جا سکتی ہے، قرآن کا یہ کہنا کہ وہ ایک ایسا کلام ہے، جیسا کلام انسانی ذہن تخلیق نہیں کر سکتا، اور ڈیڑھ ہزار برس تک کسی انسان کا اس پر قادر نہ ہونا، قطعی طور پر ثابت کر دیتا ہے کہ یہ ایک غیر انسانی کلام ہے، یہ خدائی منبع (divine origin) سے نکلے ہوئے الفاظ ہیں، اور جو چیز خدائی منبع سے نکلی ہو اس کا جواب کون دے سکتا ہے۔ تاریخ میں چند مثالیں ملتی ہیں جب کہ اس چیلنج کو قبول کیا گیا۔ ایک واقعہ لبید بن ربیعہ عامری (وفات 41ھ) کا ہے۔ لبید ابن ابی ربیعہ دور جاہلیت میں عربوں کا مشہور شاعر تھا۔ وہ عربوں میں اپنے قوت کلام اور تیزی طبع کے لیے مشہور تھا۔ اس نے بطور چیلنج ایک نظم لکھی جو کعبہ کے پھاٹک پر آویزاں کی گئی، اور یہ ایک ایسا اعزاز تھا جو صرف کسی اعلیٰ ترین شخص ہی کو ملتا تھا۔ اس واقعہ کے جلد ہی بعد کسی مسلمان نے قرآن کی ایک سورہ لکھ کر اس کے قریب آویزاں کردی، لبید (جو اس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے) جب اگلے روز کعبہ کے دروازہ پر آئے اور سورہ کو پڑھا تو ابتدائی فقروں کے بعد ہی وہ غیر معمولی طور پر متاثر ہوئے اور اعلان کیا بلا شبہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہے، اور میں اس پر ایمان لاتا ہوں۔ Mohammad, the Holy Prophet by H.G.Sarwar, p.448

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page