قرآن خدا کی آواز
Urdu book, p. 164
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ جب اس کے پاس گئے تو انھوں نے اس کو اس حال میں پایا کہ وہ بیٹھا ہوا ہے۔ قلم اس کے ہاتھ میں ہے، گہرے مطالعہ میں مستغرق ہے، اس مشہور نومسلم ایرانی ادیب کے سامنے ایک سادہ کاغذ پڑا ہوا ہے، اس کی نشست کے پاس لکھ لکھ کر پھاڑے ہوئے کاغذات کا ایک انبار ہے اور اسی طرح سارے کمرہ میں کاغذات کا ڈھیر لگا ہوا ہے، اس انتہائی قابل اور فصیح اللسان شخص نے اپنی بہترین قوت صرف کر کے قرآن کا جواب لکھنے کی کوشش کی ۔ مگر وہ بری طرح ناکام رہا، اس نے پریشانی کے عالم میں اعتراف کیا کہ صرف ایک فقرہ لکھنے کی جدوجہد میں اس کے چھ مہینے گزر گئے مگر وہ لکھ نہ سکا، چنانچہ ناامید اور شرمندہ ہو کر وہ اس خدمت سے دست بردار ہو گیا۔ اس طرح قرآن کا چیلنج بدستور آج تک قائم ہے اور صدیوں پر صدیاں گزر گئیں مگر کوئی اس کا جواب نہ دے سکا، قرآن کی یہ ایک حیرت انگیز خصوصیت ہے جو بلا اشتباہ یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ مافوق ہستی کا کلام ہے، اگر آدمی کے اندر فی الواقع سوچنے کی صلاحیت ہو تو یہی واقعہ ایمان لانے کے لیے کافی ہے۔ عرب کے لوگ فصاحت و بلاغت میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے، اور ان کو اپنے کلام کی برتری کا اتنا احساس تھا کہ عرب کے سوا بقیہ دنیا کو عجم (گونگا) کہتے تھے، اس کے باوجود وہ قرآن کے کلام کے آگے جھکنے پر مجبور ہو گئے، یہ قرآن کے معجزانہ کلام کا نتیجہ تھا۔ تمام لوگوں کو اس کے برتر ادب کا اعتراف کرنا پڑا ۔ مکہ کا واقعہ ہے ۔ طفیل بن عمر الدوسی یمن کے شاعر تھے۔ جب وہ مکہ آئے تو لوگوں نے کہا کہ محمد کی بات نہیں سننا۔ یہ سن کر انھوں نے سوچا کہ میں ایک عقل مند انسان ہوں، شاعر بھی ہوں، اچھی اور خراب باتوں کو میں خود سمجھ سکتا ہوں۔ چنانچہ اس نے پیغمبر اسلام سے ملاقات کی، اور قرآن سنانے کے لیے کہا۔ پیغمبر اسلام نے قرآن کا کچھ حصہ سنایا۔ یہ سن کر اس نے کہا:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader