Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

قرآن ؀ خدا کی آواز

Urdu book, p. 165

By Maulana Wahiduddin Khan

وَاللَّهِ مَا سَمِعْتُ قَوْلًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ، وَلَا أَمْرًا أَعْدَلَ مِنْهُ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 383)۔ اللہ کی قسم میں نے اس سے اچھی بات نہیں سنی، اور نہ اس سے زیادہ انصاف والی بات سنی ہے۔ اسی طرح ایک قریشی سردار ولید بن مغیرہ نے قرآن سنا تو اس کی زبان سے بے اختیار یہ فقرہ نکلا: وَاللَّهِ إِنَّ لِقَوْلِهِ الَّذِي يَقُولُ: حَلَاوَةً وَإِنَّ عَلَيْهِ لَطَلَاوَةً، وَإِنَّهُ لَمُثْمِرٌ أَعْلَاهُ مُغْدِقٌ أَسْفَلَهُ، وَإِنَّهُ لَيَعْلُو وَمَا يُعْلَى، وَإِنَّهُ لَيَحْطِمُ مَا تَحْتَهُ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر (133)۔ یعنی اللہ کی قسم، بے شک جو وہ کہتے ہیں، اس میں شیرینی ہے، اور اس میں کشش (attraction) ہے، اس کا اوپرى حصہ پھلدار ہے، اور اس کا نچلا حصہ زرخیز ہے، بے شک وہ ضرور غالب ہوگا ہے، کوئی اس پر غلبہ نہیں پاسکتا، اور جو اس کو سنے وہ اس سے متاثر ہو جاتا ہے۔ اس طرح کے بے شمار اعترافات ہیں، جو قدیم تاریخ میں بھی موجود ہیں، اور حال کے واقعات میں بھی۔ 2۔ دوسری چیز جس کا میں ذکر کرنا چاہتا ہوں، وہ قرآن کی پیشین گوئیاں ہیں، یہ پیشین گوئیاں حیرت انگیز طور پر بالکل صحیح ثابت ہوئیں۔ تاریخ میں ہمیں بہت سے ایسے ذہین اور حوصلہ مند لوگ ملتے ہیں جنھوں نے اپنے یا دوسرے کے بارے میں پیشین گوئی کی جرات کی ہے، مگر ہمیں معلوم ہے کہ زمانے نے کبھی ایسے لوگوں کی تصدیق نہیں کی، موافق حالات غیر معمولی صلاحیت، اعوان و انصار کی کثرت اور ابتدائی کامیابیوں نے اکثر لوگوں کو اس دھوکے میں ڈال دیا ہے کہ وہ ایک ایسے انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں، جو عین اس کی مرضی کے مطابق ہے، انھوں نے فوراً

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page