Urdu book · مذہب اور جدید چیلنج

قرآن ؀ خدا کی آواز

Urdu book, p. 166

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک یقینی انجام کا دعویٰ کر دیا، مگر تاریخ نے ہمیشہ اس قسم کے دعوؤں کی تردید کی ہے، اس کے برعکس بالکل مخالف اور ناقابل قیاس حالات میں بھی قرآن کے الفاظ اس طرح صحیح ثابت ہوئے کہ ان کی توجیہ کے لیے تمام انسانی علوم بالکل ناکافی ہیں، ہم انسانی تجربات کی روشنی میں کسی طرح ان کو سمجھ نہیں سکتے۔ ان کی توجیہ کی واحد صورت یہ ہے کہ ان کو غیر انسانی ہستی کی طرف منسوب کیا جائے۔ نپولین بونا پارٹ (Napoléon Bonaparte, 1769-1821) اپنے وقت کا عظیم جنرل تھا۔ اس کی ابتدائی کامیابیاں بتاتی تھیں کہ وہ سیزراور سکندر کے لیے بھی ایک قابل رشک فاتح ثابت ہوگا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نپولین کے ذہن میں یہ خیال پرورش پانے لگا کہ وہ تقدیر کا مالک ہے، اس کو اپنے اوپر اتنا اعتماد ہو گیا کہ اپنے قریبی مشیروں تک کے مشورے کو قبول کرنا اس نے چھوڑ دیا، اس کا کہنا تھا کہ کامل غلبہ کے سوا میرا کوئی دوسرا انجام نہیں ہو سکتا۔ مگر اس کا انجام کیا ہوا، وہ سب کو معلوم ہے۔ 12 جون 1815 ء کو نپولین اپنی سب سے بڑی فوج لے کر پیرس سے روانہ ہوا کہ دشمن کو اس کے راستے ہی میں ختم کر دے، اس کے چھ دن بعد واٹرلو (بلجیم) میں آرتھر ویلیزلی (Arthur Wellesley, 1769-1852) نے خود اس کو فیصلہ کن شکست دینے میں کامیابی حاصل کی، جو اس وقت برطانیہ، ہالینڈ اور جرمنی کی فوجوں کی قیادت کر رہا تھا۔ اب نپولین کی ساری امیدیں ختم ہو گئیں۔ وہ اپنا تخت چھوڑ کر امریکہ کے ارادے سے بھاگ کھڑا ہوا، مگر ابھی ساحل پر پہنچا تھا کہ دشمن کے نگراں دستوں نے اسے پکڑ لیا، اور مجبور کیا کہ وہ ایک برطانوی جہاز پر سوار ہو۔ اس کے بعد اس کو جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے لیے جنوبی اٹلانٹک کے جزیرہ سینٹ ہیلنیا پہنچا دیا گیا، جہاں وہ تنہائی اور مشکل حالات میں زندگی گزارتے ہوئے 5 مئی 1821 ء کو مر گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page