قرآن خدا کی آواز
Urdu book, p. 167
By Maulana Wahiduddin Khan
مشہور کمیونسٹ مینیسٹو جو 1848 میں شائع ہوا، اس میں سب سے پہلے جس ملک میں اشتراک کی انقلاب کی امید ظاہر کی گئی تھی، وہ جرمنی ہے، مگر ایک سو بیس سال گزرنے کے بعد بھی جرمنی اب تک اس ”انقلاب“ سے نا آشنا ہے۔ مئی 1859 ء میں کارل مارکس نے لکھا تھا ”سرخ جمہوریت پیرس کے اوپر سے جھانک رہی ہے۔“ اس پیشین گوئی کو ایک صدی سے زیادہ مدت گزر گئی، مگر ابھی تک پیرس کے اوپر سرخ جمہوریت کا آفتاب نہیں نکلا، اڈولف ہٹلر نے 14 اپریل 1936 ء کو میونخ کی مشہور تقریر میں کہا تھا: ”میں اپنے راستہ پر اس اعتماد کے ساتھ چل رہا ہوں کہ غلبہ میرے حق میں مقدر ہو چکا ہے۔“ A Study of History (Abridgment) p.447 مگر ساری دنیا جانتی ہے کہ جرمنی کے اس عظیم ڈکٹیٹر کے حق میں جو چیز مقدر تھی وہ یہ کہ وہ شکست کھائے اور خود کشی کر کے اپنی جان دے۔ اس طرح کی بے شمار مثالوں کے ہجوم میں صرف کتاب الہیٰ کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس نے جس جس چیز کی پیشین گوئی کی وہ حرف بحرف پوری ہوئی_ یہ واقعہ اس بات کے ثبوت کے لیے کافی ہے کہ یہ کلام ایسے مافوق ذہن سے نکلا ہے، جس کے قبضہ میں حالات کی باگ ڈور ہے اور جو ازل سے ابد تک کی خبر رکھتا ہے۔ یہاں میں صرف دو پیشین گوئیوں کا ذکر کروں گا۔ ایک، خود پیغمبر اسلام کا غلبہ، اور دوسرا، رومیوں کی ایرانیوں کے اوپر مغلوبیت کے بعد فتح کی پیشین گوئی۔ 1۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اسلام کی دعوت شروع کی تو تقریباً تمام عرب آپ کا مخالف ہو گیا ایک طرف مشرک قبائل تھے، جو آپ کے جانی دشمن ہو گئے، دوسری طرف یہودی سرمایہ دار تھے، جو ہر قیمت پر آپ کو نا کام بنا دینے کا فیصلہ کر چکے تھے، تیسری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader