قرآن خدا کی آواز
Urdu book, p. 168
By Maulana Wahiduddin Khan
طرف منافقین تھے، جو بظاہر مسلمان بنے ہوئے تھے، مگر ان کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی جماعت میں گھس کر آپ کی تحریک کو اندر سے ڈائنا میٹ کریں، اس طرح طاقت، سرمایہ اور اندرونی سازش۔ سہ طرفہ مخالفتوں کے طوفان میں آپ اس طرح اپنی تحریک چلا رہے تھے کہ تھوڑے سے غلاموں اور کمزور لوگوں کے سوا کوئی آپ کا ساتھی نہ تھا، مکہ کے سر بر آوردہ لوگوں میں سے گنتی کے چند آدمی جو آپ کا ساتھ دینے کے لیے نکلے ان کا بھی حال یہ ہوا کہ آپ کی طرف آتے ہی وہ اپنی برادری سے کٹ گئے اور ان کی قوم ان کی بھی اسی طرح دشمن ہو گئی جس طرح وہ خدا کے رسول کی دشمن تھی۔ یہ تحریک یوں ہی چلتی رہی، یہاں تک کہ حالات اس قدر شدید ہو گئے کہ آپ اور آپ کے اصحاب کو اپنا وطن چھوڑ کر دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کر جانا پڑا۔ اس طرح آپ اور آپ کے ساتھی جو پہلے ہی نہتے اور کمزور تھے، مدینے میں اس حالت میں جمع ہوئے کہ اپنے وطن میں جو کچھ ان کے پاس تھا وہ بھی چھن چکا تھا۔ مدینے میں ان لوگوں کی بے کسی کا کیا عالم تھا، اس کا اندازہ اس سے لگائیے کہ اپنے وطن کو چھوڑ کر مدینے میں آپ کے جو ساتھی جمع ہوئے تھے، ان میں ایسے لوگ بھی تھے، جن کے رہنے کے لیے کوئی باقاعدہ مکان نہیں تھا، وہ چھپر پڑے ہوئے ایک چبوترے پر زندگی گزارتے تھے، اسی مناسبت سے ان کا نام "اصحابِ صفہ" پڑ گیا تھا۔ اس چبوترے پر مختلف اوقات میں جو لوگ رہے، ان کی تعداد تقریباً چار سو بتائی جاتی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ کا بیان ہے کہ میں نے اصحابِ صفہ میں سے ستر آدمیوں کو دیکھا ہے، جن میں سے ہر شخص کا حال یہ تھا کہ اس کے پاس یا تو صرف ایک تہبند تھی، یا صرف ایک چادر، وہ اس کو اپنی گردن میں باندھ لیتا تھا، اور وہ اس کی پنڈلی تک لٹکتا رہتا تھا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 442)۔ حضرت ابو ہریرہ اس زمانے کا خود اپنا حال بیان کرتے ہیں کہ مسجد نبوی میں خاموش لیٹا رہتا تھا، اور لوگ سمجھتے تھے کہ میں بیہوش

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader