قرآن خدا کی آواز
Urdu book, p. 169
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوں، حالانکہ حقیقت صرف یہ تھی کہ مسلسل فاقے کی وجہ سے نڈھال ہو جاتا تھا، اور مسجد میں جا کر لیٹ رہتا تھا (جامع الترمذی ، حدیث نمبر 2367) ۔ چند انسانوں کا یہ بے سروسامان قافلہ مدینے کی زمین پر اس طرح پڑا ہوا تھا کہ ہر آن یہ خطرہ تھا کہ چاروں طرف اس کے پھیلے ہوئے دشمن اس کو اچک لے جائیں گے، مگر خدا کی طرف سے بار بار آپ کو یہ بشارت آتی تھی کہ تم ہمارے نمائندے ہو اور تمھیں کوئی زیر نہیں کر سکتا۔ قرآن میں ایک مقام پر یہ اعلان ہے : كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ (58:21)۔ یعنی اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے۔ بیشک اللہ قوت والا، زبردست ہے۔ اسی طرح ایک اور مقام پر ہے کہ ساری مخالفتوں کے باوجود اللہ تم کو غالب کر کے رہے گا : يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ - هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (61:8-9)۔ یعنی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ کا فیصلہ ہے کہ وہ اپنی روشنی کو مکمل کر کے رہے گا، خواہ منکروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو، وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تا کہ اس کو تمام دینوں پر غالب کر دے، خواہ شرک کرنے والوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ اس دعوے کو تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ سارا عرب آپ کے ماتحت ہو گیا۔ تھوڑے سے نہتے اور بے سروسامان لوگ ان پر غالب آگئے جو تعداد میں بہت زیادہ تھے، وقت جن کا ساتھ دے رہا تھا اور جن کے پاس ہتھیار اور سازوسامان کا زبردست ذخیرہ موجود تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader