مخالفینِ مذہب کا مقدمہ
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
یعنی ہر وہ علم جو حقیقی ہے، وہ تجربات سے اس طور پر متعلق ہوتا ہے کہ اس کی جانچ یا براہ راست یا بالواسطہ طریقہ سے اس کی تصدیق حاصل کرنا ممکن ہو۔ اس طرح مخالفین مذہب کے نزدیک صورت حال یہ بنتی ہے کہ ارتقا کے عمل نے انسان کو آج جس اعلیٰ ترین مقام تک پہنچایا ہے، وہ عین اپنے طریق فکر کے اعتبار سے مذہب کی تردید ہے۔ کیوں کہ جدید ارتقا یافتہ علم نے ہمیں بتایا ہے کہ حقیقت صرف وہی ہوسکتی ہے جو تجربہ اور مشاہدہ میں آئی ہو۔ جب کہ مذہب کی بنیاد حقیقت کے ایک ایسے تصور پر ہے جو سرے سے مشاہدہ اور تجربے میں آہی نہیں سکتی، دوسرے لفظوں میں واقعات و حوادث کی الہیاتی توجیہ ترقی یافتہ ذرائع سے ثابت نہیں ہوتی اس لیے وہ غیر حقیقی ہے۔ اس طریق فکر کے مطابق مذہب، حقیقی واقعات کی غیر حقیقی توجیہ ہے۔ پہلے زمانے میں انسان کا علم چوں کہ بہت محدود تھا، اس لیے واقعات کی صحیح توجیہ میں اسے کامیابی نہیں ہوئی اور اس نے مذہب کے نام سے عجیب عجیب مفروضے قائم کرلیے، مگر ارتقا کے عالمگیر قانون نے آدمی کو اس اندھیرے سے نکال دیا ہے، اور جدید معلومات کی روشنی میں یہ ممکن ہو گیا ہے کہ اٹکل پچو عقائد پر ایمان رکھنے کے بجائے خالص تجرباتی اور مشاہداتی ذرائع سے اشیا کی حقیقت معلوم کی جائے (۱) ۔ چنانچہ وہ تمام چیزیں جن کو پہلے مافوق الطبیعاتی اسباب کا نتیجہ سمجھا جاتا تھا، اب بالکل فطری اسباب کے تحت ان کی تشریح معلوم کرلی گئی ہے۔ جدید طریق مطالعہ نے ہمیں بتا دیا ہے کہ خدا کا وجود فرض کرنا انسان کی کوئی واقعی (۱) منطقی ثبوتیت کی تنقید کو دوسری طرح یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ ماضی کے علمائے مذاہب کی مثال ایسے شخص کی سی ہے، جس نے بیکار چیک (Dud Cheque) لکھ دیا ہو جس کے لیے بنک میں واقعی رقم موجود نہ ہو۔ یہ لوگ ایسے الفاظ استعمال کرتے رہے، جس کے پیچھے معنویت کا سرمایہ نہیں، ’نا قابل تغییر حقیقت اعلیٰ‘ قواعد زبان کی رو سے ایک صحیح جملہ ہے۔ مگر وہ ایک بے کار چک ہے جس کے پیچھے کوئی حقیقی سرمایہ نہیں۔“ 20 .Religion and the Scientific Outlook, p

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader