مخالفینِ مذہب کا مقدمہ
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
دریافت نہیں تھی، بلکہ یہ محض دورِ علمی کے قیاسات تھے جو علم کی روشنی پھیلنے کے بعد خود بخود ختم ہوگئے ہیں۔ جولین ہکسلے لکھتا ہے: ’’ نیوٹن نے دکھادیا ہے کہ کوئی خدا نہیں ہے، جو سیاروں کی گردش پر حکومت کرتا ہو، لاپلاس نے اپنے مشہور نظریے سے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ فلکی نظام کو خدائی مفروضہ کی کوئی ضرورت نہیں، ڈارون اور پاسچر نے یہی کام حیاتیات کے میدان میں کیا ہے، اور موجودہ صدی میں علم النفس کی ترقی اور تاریخی معلومات کے اضافے نے خدا کو اس مفروضہ مقام سے ہٹا دیا ہے کہ وہ انسانی زندگی اور تاریخ کو کنٹرول کرنے والا ہے۔‘‘ Religion without Revelation, New York, 1958, p. 58 یعنی طبیعیات، نفسیات اور تاریخ، تینوں علوم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جن واقعات کی توجیہہ کے لیے پچھلے انسان نے خدا اور دیوتا کا وجود فرض کر لیا تھا، یا مجرد طاقتوں کو ماننے لگا تھا، اس کے اسباب دوسرے تھے، مگر ناواقفیت کی وجہ سے وہ مذہب کی پر اسرار اصطلاحوں میں بات کرتا رہا۔ 1۔ طبیعیاتی دنیا میں اس انقلاب کا ہیرو نیوٹن ہے۔ جس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ کائنات کچھ ناقابل تغیر اصولوں میں بندھی ہوئی ہے۔ کچھ قوانین ہیں، جن کے تحت تمام اجرام سماوی حرکت کر رہے ہیں۔ بعد کو دوسرے بے شمار لوگوں نے اس تحقیق کو آگے بڑھایا۔ یہاں تک کہ زمین سے لے کر آسمان تک سارے واقعات ایک اٹل نظام کے تحت ظاہر ہوتے ہوئے نظر آئے جس کو قانونِ فطرت (Law of Nature) کا نام دیا گیا۔ اس دریافت کے بعد قدرتی طور پر یہ تصور ختم ہوجاتا ہے کہ کائنات کے پیچھے کوئی فعال اور قادر خدا ہے، جو اس کو چلا رہا ہے، زیادہ سے زیادہ گنجائش اگر ہوسکتی ہے تو ایسے خدا کی جس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader