قرآن خدا کی آواز
Urdu book, p. 170
By Maulana Wahiduddin Khan
مادی اصطلاحات میں اس بات کی کوئی توجیہہ نہیں کی جا سکتی کہ آپ کو عین اپنی پیشین گوئی کے مطابق عرب کے لوگوں اور ہمسایہ ملکوں پر کیسے اتنی زبردست فتح حاصل ہوگئی۔ اس کی صرف ایک ہی توجیہہ ممکن ہے، وہ یہ کہ آپ خدا کے نمائندے تھے۔ خدا نے اپنی مدد سے آپ کو آپ کے دشمنوں کے مقابلے میں غالب کیا اور آپ کے مشن کو اس حد تک کامیاب کیا کہ آپ کے دشمن آپ کے ساتھی بن گئے، غیر معمولی مخالفت اور زبردست دشمنوں کے مقابلے میں نبی اُمّی کا عین اپنے دعوے کے مطابق کامیاب ہونا اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ آپ کائناتی طاقت کے نمائندے تھے۔ اگر آپ کا مشن محض ایک انسانی مشن ہوتا تو کبھی ممکن نہیں تھا کہ آپ کے الفاظ تاریخ بن جائیں۔ ایسی تاریخ جس کی مثال سارے انسانی واقعات میں کوئی ایک بھی نہیں۔ جے، ڈبلیو، ایچ اسٹوبرٹ (J. W. H. Stobart) کے الفاظ میں’’آپ کے پاس جتنے کم ذرائع تھے، اور جو وسیع اور مستقل کارنامہ آپ نے انجام دیا، اس کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ساری انسانی تاریخ میں اتنا نمایاں طور پر درخشاں نام اور کوئی نظر نہیں آتا جتنا نبی عربی کا ہے۔‘‘ Islam and its Founder, p. 228 یہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے نمائندۂ الہیٰ ہونے کی ایسی حیرت انگیز دلیل ہے کہ سر ولیم میور (William Muir) جیسے شخص کو بھی بالواسطہ طور پر اس کا اعتراف کرنا پڑا: ’’محمد نے مخالفین کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا، انھیں مٹھی بھر آدمیوں کے ساتھ دن رات اپنی کامیابی کا انتظار رہتا تھا، بظاہر بالکل غیر محفوظ، بلکہ یوں کہیے کہ شیر کے منہ میں رہ کر وہ ہمت دکھائی کہ اس کی نظیر اگر کہیں مل سکتی ہے تو صرف بائبل میں جہاں ایک نبی کے متعلق لکھا ہے کہ انھوں نے ایک موقع پر خدا سے کہا تھا— صرف میں ہی باقی رہ گیا ہوں ۔‘‘ Life of Mohammed, p. 221

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader