قرآن خدا کی آواز
Urdu book, p. 171
By Maulana Wahiduddin Khan
2- قرآن کی دوسری پیشین گوئی جس کا میں یہاں ذکر کرنا چاہتا ہوں، وہ رومیوں کا ایرانیوں پر غلبہ ہے جو قرآن کی تیسویں سورہ (روم) میں وارد ہوئی ہے: غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ (3:2-30) - یعنی رومی قریب کی زمین میں مغلوب ہو گئے ہیں مگر مغلوب ہونے کے بعد چند سال میں پھر وہ غالب آ جائیں گے۔ جزیرہ نمائے عرب کے مشرق میں خلیج فارس کے دوسرے ساحل پر ایرانی حکومت قائم تھی، اور مغرب میں بحر احمر کے کناروں سے لے کر اوپر بحر اسود تک وہ سلطنت تھی، جو تاریخ میں سلطنت روم کے نام سے مشہور ہے، اول الذکر کا دوسرا نام ساسانی سلطنت اور موخر الذکر کا بازطینی سلطنت ہے، ان دونوں حکومتوں کی سرحدیں عرب کے شمال میں عراق کے مشہور دریاؤں دجلہ وفرات پر آ کر ملتی تھیں، یہ دونوں اپنے زمانے کی طاقت ورترین سلطنتیں تھیں، رومی سلطنت کی تاریخ مورخ گبن کے بیان کے مطابق دوسری صدی عیسوی سے شروع ہوتی ہے اور اس کو اپنے وقت کی مہذب ترین سلطنت کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ ایک مصنف کے الفاظ میں، روم کے زوال پر جتنا لکھا گیا ہے، اتنا کسی تہذیب کے خاتمے پر نہیں لکھا گیا۔ Western Civilisation, p, 210 اس عنوان پر سب سے زیادہ تفصیلی اور مستند ڈیٹا (data) برٹش مورخ و مستشرق گبن (Edward Gibbon, 1737-1794) کی کتاب میں ہے، جس کا نام ہے: The History of the Decline and Fall of the Roman Empire (1767) اس کتاب کی پانچویں جلد کے دوسرے باب میں قابل مصنف نے اس دور کے واقعات قلم بند کیے ہیں، جو اس وقت ہمارا موضوع بحث ہے۔ روم کے ایک سابق بادشاہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader